ظفراقبال

مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)

05 December 2025

18سپیکرز
199لسنرز

سپیکرز

حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام

فغاں بھی چھوڑ دی فریاد بھی نہیں کریں گے

فغاں بھی چھوڑ دی فریاد بھی نہیں کریں گے جو وہ کہے تو اسے یاد بھی نہیں کریں گے کھلیں گے آپ کی آواز کے گلاب کبھی اگرچہ آپ کچھ ارشاد بھی نہیں کریں گے جو تیرے ہوتے ہوئے کر سکے نہ ڈھنگ سے ہم وہ کاروبار ترے بعد بھی نہیں کریں گے خوشی جو دے نہ سکے کوئی سر پھرے دل کو تو بے سبب اسے ناشاد بھی نہیں کریں گے جئیں گے دیکھنے کو تیری خامشی کی حدیں ہم اپنے آپ کو برباد بھی نہیں کریں گے ظفرؔ کہ بلبل گستاخ بھی ہے گلشن کا اسے حوالۂ صیاد بھی نہیں کریں گے

— ظفراقبال