سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
رخ زیبا ادھر نہیں کرتا
رخ زیبا ادھر نہیں کرتا چاہتا ہے مگر نہیں کرتا سوچتا ہے مگر سمجھتا نہیں دیکھتا ہے نظر نہیں کرتا بند ہے اس کا در اگر مجھ پر کیوں مجھے در بدر نہیں کرتا حرف انکار اور اتنا طویل بات کو مختصر نہیں کرتا نہ کرے شہر میں وہ ہے تو سہی مہربانی اگر نہیں کرتا حسن اس کا اسی مقام پہ ہے یہ مسافر سفر نہیں کرتا جا کے سمجھائیں کیا اسے کہ ظفرؔ تو بھی تو درگزر نہیں کرتا
رات اندھیری ہے اور کوئی جگنو نہیں مل رہا
رات اندھیری ہے اور کوئی جگنو نہیں مل رہا دشت کیسا ہے یہ جس میں آہو نہیں مل رہا جس سے ظاہر ہو اس کو خبر ہے مرے حال کی بات میں کوئی بھی ایسا پہلو نہیں مل رہا کیا کہیں اور بھی کتنی چیزوں سے محروم ہوں صرف اتنا نہیں ہے کہ بس تو نہیں مل رہا ایک ہاری ہوئی اپنی ہمت کی ہے جستجو اور کھویا ہوا زور بازو نہیں مل رہا اس ملاقات میں ایک ہونے کی خواہش نہ تھی اس جدائی میں رونے کو آنسو نہیں مل رہا کیا ہوا تھی کہ لوگوں کو پتے سے بکھرا گئی سب پریشان ہیں کوئی یکسو نہیں مل رہا اس قدر شیون و شور کچھ بے سبب تو نہیں کوئی دکھ ہے کہیں جس کا دارو نہیں مل رہا زندگی ہے سمندر کے رحم و کرم پر ظفرؔ کیسی کشتی ہے یہ جس کو چپو نہیں مل رہا