ظفراقبال

مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)

05 December 2025

18سپیکرز
199لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

رخ زیبا ادھر نہیں کرتا

رخ زیبا ادھر نہیں کرتا چاہتا ہے مگر نہیں کرتا سوچتا ہے مگر سمجھتا نہیں دیکھتا ہے نظر نہیں کرتا بند ہے اس کا در اگر مجھ پر کیوں مجھے در بدر نہیں کرتا حرف انکار اور اتنا طویل بات کو مختصر نہیں کرتا نہ کرے شہر میں وہ ہے تو سہی مہربانی اگر نہیں کرتا حسن اس کا اسی مقام پہ ہے یہ مسافر سفر نہیں کرتا جا کے سمجھائیں کیا اسے کہ ظفرؔ تو بھی تو درگزر نہیں کرتا

— ظفراقبال

رات اندھیری ہے اور کوئی جگنو نہیں مل رہا

رات اندھیری ہے اور کوئی جگنو نہیں مل رہا دشت کیسا ہے یہ جس میں آہو نہیں مل رہا جس سے ظاہر ہو اس کو خبر ہے مرے حال کی بات میں کوئی بھی ایسا پہلو نہیں مل رہا کیا کہیں اور بھی کتنی چیزوں سے محروم ہوں صرف اتنا نہیں ہے کہ بس تو نہیں مل رہا ایک ہاری ہوئی اپنی ہمت کی ہے جستجو اور کھویا ہوا زور بازو نہیں مل رہا اس ملاقات میں ایک ہونے کی خواہش نہ تھی اس جدائی میں رونے کو آنسو نہیں مل رہا کیا ہوا تھی کہ لوگوں کو پتے سے بکھرا گئی سب پریشان ہیں کوئی یکسو نہیں مل رہا اس قدر شیون و شور کچھ بے سبب تو نہیں کوئی دکھ ہے کہیں جس کا دارو نہیں مل رہا زندگی ہے سمندر کے رحم و کرم پر ظفرؔ کیسی کشتی ہے یہ جس کو چپو نہیں مل رہا

— ظفراقبال