سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا
خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا کہ دھیان ہی نہ رہا غم کی بے لباسی کا چمک اٹھے ہیں جو دل کے کلس یہاں سے ابھی گزر ہوا ہے خیالوں کی دیو داسی کا گزر نہ جا یوں ہی رخ پھیر کر سلام تو لے ہمیں تو دیر سے دعوی ہے روشناسی کا خدا کو مان کہ تجھ لب کے چومنے کے سوا کوئی علاج نہیں آج کی اداسی کا گرے پڑے ہوئے پتوں میں شہر ڈھونڈتا ہے عجیب طور ہے اس جنگلوں کے باسی کا
بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا
بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا شہر کو ہر ذائقے سے آشنا کر جاؤں گا تو بھی ڈھونڈے گا مجھے شوق سزا میں ایک دن میں بھی کوئی خوبصورت سی خطا کر جاؤں گا مجھ سے اچھائی بھی نہ کر میری مرضی کے خلاف ورنہ میں بھی ہاتھ کوئی دوسرا کر جاؤں گا مجھ میں ہیں گہری اداسی کے جراثیم اس قدر میں تجھے بھی اس مرض میں مبتلا کر جاؤں گا شور ہے اس گھر کے آنگن میں ظفرؔ کچھ روز اور گنبد دل کو کسی دن بے صدا کر جاؤں گا