ظفراقبال

مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)

05 December 2025

18سپیکرز
199لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا

خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا کہ دھیان ہی نہ رہا غم کی بے لباسی کا چمک اٹھے ہیں جو دل کے کلس یہاں سے ابھی گزر ہوا ہے خیالوں کی دیو داسی کا گزر نہ جا یوں ہی رخ پھیر کر سلام تو لے ہمیں تو دیر سے دعوی ہے روشناسی کا خدا کو مان کہ تجھ لب کے چومنے کے سوا کوئی علاج نہیں آج کی اداسی کا گرے پڑے ہوئے پتوں میں شہر ڈھونڈتا ہے عجیب طور ہے اس جنگلوں کے باسی کا

— ظفراقبال

بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا

بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا شہر کو ہر ذائقے سے آشنا کر جاؤں گا تو بھی ڈھونڈے گا مجھے شوق سزا میں ایک دن میں بھی کوئی خوبصورت سی خطا کر جاؤں گا مجھ سے اچھائی بھی نہ کر میری مرضی کے خلاف ورنہ میں بھی ہاتھ کوئی دوسرا کر جاؤں گا مجھ میں ہیں گہری اداسی کے جراثیم اس قدر میں تجھے بھی اس مرض میں مبتلا کر جاؤں گا شور ہے اس گھر کے آنگن میں ظفرؔ کچھ روز اور گنبد دل کو کسی دن بے صدا کر جاؤں گا

— ظفراقبال