سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
نہیں کہ ملنے ملانے کا سلسلہ رکھنا
نہیں کہ ملنے ملانے کا سلسلہ رکھنا کسی بھی سطح پہ کوئی تو رابطہ رکھنا مریں گے لوگ ہمارے سوا بھی تم پہ بہت یہ جرم ہے تو پھر اس جرم کی سزا رکھنا مدد کی تم سے توقع تو خیر کیا ہوگی غریبِ شہرِ ستم ہوں' مرا پتا رکھنا بس ایک شام ہمیں چاہیے' نہ پوچھنا کیوں یہ بات اور کسی شام پر اٹھا رکھنا نئے سفر پر روانہ ہوا ہوں از سرِ نو جب آؤں گا تو مرا نام بھی نیا رکھنا فصیلِ شوق اٹھانا' ظفر ضرور مگر کسی طرف نکلنے کا راستا رکھنا
شمار ہونا ہے یا بے شمار ہونا ہے
شمار ہونا ہے یا بے شمار ہونا ہے یہی ہمارا نہ ہونا ہزار ہونا ہے ابھی نہیں تجھے کر سکتے یاد چل پھر کر پڑے پڑے ہی تیرا انتظار ہونا ہے رکیں گے کیا ترے دریا کے درمیان میں اب کہ آر ہونا ہے یا ہم نے پار ہونا ہے ابھی تو ہم نے اٹھانا ہے اور بھی نقصان ابھی تو اور بہت کاروبار ہونا ہے ہمارے خواب نے چلنا ہے کارواں بن کر ہماری خاک نے آخر غبار ہونا ہے کبھی تو کرنا پڑے گا ہمارے ساتھ انصاف کبھی تو آپ نے ایماندار ہونا ہے ہماری پہلے ہی صحت خراب ہے اتنی ابھی تمہارے مرض کا شکار ہونا ہے کبھی تو آئے گی باری ہماری آخر کار تری دکان کے باہر قطار ہونا ہے ظفر کے ہاتھ بھی خالی ہیں اور دل بھی مگر اسی نے آپ کا امیدوار ہوتا ہے