سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے یہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئے خواب کی تعبیر پر اصرار ہے جن کو ابھی پہلے ان کو خواب سے بیدار ہونا چاہئے ڈوب کر مرنا بھی اسلوب محبت ہو تو ہو وہ جو دریا ہے تو اس کو پار ہونا چاہئے اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات جو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہئے بات پوری ہے ادھوری چاہئے اے جان جاں کام آساں ہے اسے دشوار ہونا چاہئے دوستی کے نام پر کیجے نہ کیونکر دشمنی کچھ نہ کچھ آخر طریق کار ہونا چاہئے جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے
نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوں
نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوں سمجھ تو لیتا ہوں سارے نہیں سمجھتا ہوں ترا چڑھا ہوا دریا سمجھ میں آتا ہے ترے خموش کنارے نہیں سمجھتا ہوں کدھر سے نکلا ہے یہ چاند کچھ نہیں معلوم کہاں کے ہیں یہ ستارے نہیں سمجھتا ہوں کہیں کہیں مجھے اپنی خبر نہیں ملتی کہیں کہیں ترے بارے نہیں سمجھتا ہوں جو دائیں بائیں بھی ہیں اور آگے پیچھے بھی انہیں میں اب بھی تمہارے نہیں سمجھتا ہوں خود اپنے دل سے یہی اختلاف ہے میرا کہ میں غموں کو غبارے نہیں سمجھتا ہوں کبھی تو ہوتا ہے میری سمجھ سے باہر ہی کبھی میں شرم کے مارے نہیں سمجھتا ہوں کہیں تو ہیں جو مرے خواب دیکھتے ہیں ظفرؔ کوئی تو ہیں جنہیں پیارے نہیں سمجھتا ہوں