ظفراقبال

مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)

05 December 2025

18سپیکرز
199لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو

یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو راس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو کہیں نکلے کوئی اندازہ ہمارا بھی غلط جانتے ہیں اسے جیسا کہیں ویسا ہی نہ ہو ہو کسی طرح سے مخصوص ہمارے ہی لیے یعنی جتنا نظر آتا ہے وہ اتنا ہی نہ ہو ٹکٹکی باندھ کے میں دیکھ رہا ہوں جس کو یہ بھی ہو سکتا ہے وہ سامنے بیٹھا ہی نہ ہو وہ کوئی اور ہو جو ساتھ کسی اور کے ہے اصل میں تو وہ ابھی لوٹ کے آیا ہی نہ ہو خواب در خواب چلا کرتا ہے آنکھوں میں جو شخص ڈھونڈنے نکلیں اسے اور کہیں رہتا ہی نہ ہو چمک اٹھا ہو ابھی روئے بیاباں اک دم اور یہ نظارہ کسی اور نے دیکھا ہی نہ ہو کیفیت ہی کوئی پانی نے بدل لی ہو کہیں ہم جسے دشت سمجھتے ہیں وہ دریا ہی نہ ہو مسئلہ اتنا بھی آسان نہیں ہے کہ ظفرؔ اپنے نزدیک جو سیدھا ہے وہ الٹا ہی نہ ہو

— ظفراقبال

لہر کی طرح کنارے سے اچھل جانا ہے

لہر کی طرح کنارے سے اچھل جانا ہے دیکھتے دیکھتے ہاتھوں سے نکل جانا ہے دوپہر وہ ہے کہ ہوتی نظر آتی ہی نہیں دن ہمارا تو بہت پہلے ہی ڈھل جانا ہے جی ہمارا بھی یہاں اب نہیں لگتا اتنا آج اگر روک لیے جائیں تو کل جانا ہے دل میں کھلتا ہوا اک آخری خواہش کا یہ پھول جاتے جاتے اسے خود میں نے مسل جانا ہے جو یہاں خود ہی لگا رکھی ہے چاروں جانب ایک دن ہم نے اسی آگ میں جل جانا ہے چلتی رکتی ہوئی یہ حسن بھی ہے ایک ہوا موسم عشق بھی اک روز بدل جانا ہے جیسے گھٹی میں کوئی خوف پڑا ہو اس کی بات بے بات ہی اس دل نے دہل جانا ہے اور تو ہونی ہے کیا اپنی وصولی اس سے منہ پہ کالک یہ ملاقات کی مل جانا ہے میں بھی کچھ دیر سے بیٹھا ہوں نشانے پہ ظفرؔ اور وہ کھینچا ہوا تیر بھی چل جانا ہے

— ظفراقبال