سپیکرز
آزاد کا پیش کردہ کلام
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو راس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو کہیں نکلے کوئی اندازہ ہمارا بھی غلط جانتے ہیں اسے جیسا کہیں ویسا ہی نہ ہو ہو کسی طرح سے مخصوص ہمارے ہی لیے یعنی جتنا نظر آتا ہے وہ اتنا ہی نہ ہو ٹکٹکی باندھ کے میں دیکھ رہا ہوں جس کو یہ بھی ہو سکتا ہے وہ سامنے بیٹھا ہی نہ ہو وہ کوئی اور ہو جو ساتھ کسی اور کے ہے اصل میں تو وہ ابھی لوٹ کے آیا ہی نہ ہو خواب در خواب چلا کرتا ہے آنکھوں میں جو شخص ڈھونڈنے نکلیں اسے اور کہیں رہتا ہی نہ ہو چمک اٹھا ہو ابھی روئے بیاباں اک دم اور یہ نظارہ کسی اور نے دیکھا ہی نہ ہو کیفیت ہی کوئی پانی نے بدل لی ہو کہیں ہم جسے دشت سمجھتے ہیں وہ دریا ہی نہ ہو مسئلہ اتنا بھی آسان نہیں ہے کہ ظفرؔ اپنے نزدیک جو سیدھا ہے وہ الٹا ہی نہ ہو
لہر کی طرح کنارے سے اچھل جانا ہے
لہر کی طرح کنارے سے اچھل جانا ہے دیکھتے دیکھتے ہاتھوں سے نکل جانا ہے دوپہر وہ ہے کہ ہوتی نظر آتی ہی نہیں دن ہمارا تو بہت پہلے ہی ڈھل جانا ہے جی ہمارا بھی یہاں اب نہیں لگتا اتنا آج اگر روک لیے جائیں تو کل جانا ہے دل میں کھلتا ہوا اک آخری خواہش کا یہ پھول جاتے جاتے اسے خود میں نے مسل جانا ہے جو یہاں خود ہی لگا رکھی ہے چاروں جانب ایک دن ہم نے اسی آگ میں جل جانا ہے چلتی رکتی ہوئی یہ حسن بھی ہے ایک ہوا موسم عشق بھی اک روز بدل جانا ہے جیسے گھٹی میں کوئی خوف پڑا ہو اس کی بات بے بات ہی اس دل نے دہل جانا ہے اور تو ہونی ہے کیا اپنی وصولی اس سے منہ پہ کالک یہ ملاقات کی مل جانا ہے میں بھی کچھ دیر سے بیٹھا ہوں نشانے پہ ظفرؔ اور وہ کھینچا ہوا تیر بھی چل جانا ہے