ظفراقبال

مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)

05 December 2025

18سپیکرز
199لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کو

یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کو مگر کیا ہو گیا ہوں اور کیا ہونا تھا مجھ کو ابھی اک لہر تھی جس کو گزرنا تھا سروں سے ابھی اک لفظ تھا میں اور ادا ہونا تھا مجھ کو پھر اس کو ڈھونڈنے میں عمر ساری بیت جاتی کوئی اپنی ہی گم گشتہ صدا ہونا تھا مجھ کو پسند آیا کسی کو میرا آندھی بن کے اٹھنا کسی کی رائے میں باد صبا ہونا تھا مجھ کو وہاں سے بھی گزر آیا ہوں خاموشی میں اب کے جہاں اک شور کی صورت بپا ہونا تھا مجھ کو در و دیوار سے اتنی محبت کس کے لیے تھی اگر اس قید خانے سے رہا ہونا تھا مجھ کو میں اپنی راکھ سے بے شک دوبارہ سر اٹھاتا مگر اک بار تو جل کر فنا ہونا تھا مجھ کو میں اندر سے کہیں تبدیل ہونا چاہتا تھا پرانی کینچلی میں ہی نیا ہونا تھا مجھ کو ظفرؔ میں ہو گیا کچھ اور ورنہ اصل میں تو برا ہونا تھا مجھ کو یا بھلا ہونا تھا مجھ کو

— ظفراقبال