ظفراقبال

مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)

05 December 2025

18سپیکرز
199لسنرز

سپیکرز

سحر کا پیش کردہ کلام

زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میں

زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میں ہوں مختلف بھی اس میں پھنسا بھی ہوا ہوں میں جو اہل شہر کو کسی صورت نہیں ہے راس ایسی یہاں پہ آب و ہوا بھی ہوا ہوں میں آزردہ کیوں ہیں اب مرے شیون پہ اہل باغ کچھ دن یہاں پہ نغمہ سرا بھی ہوا ہوں میں ان بارشوں کی مجھ کو تمنا بھی تھی بہت دیوار سے ذرا سا مٹا بھی ہوا ہوں میں رہتا ہوں دور اس کے دل نرم سے مگر پتھر کی طرح اس میں جڑا بھی ہوا ہوں میں زندہ ہوں پھر بھی ایک امید بہار پر پتا ہوں اور شجر سے جھڑا بھی ہوا ہوں میں رہتا نہیں ہوں بوجھ کسی پر زیادہ دیر کچھ قرض تھا اگر تو ادا بھی ہوا ہوں میں رکھنے لگے ہیں کچھ نظر انداز بھی یہ لوگ منظر سے اپنے آپ ہٹا بھی ہوا ہوں میں اک دور کے سفر پہ روانہ بھی ہوں ظفرؔ سست الوجود گھر میں پڑا بھی ہوا ہوں میں

— ظفراقبال