ظفراقبال

مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)

05 December 2025

18سپیکرز
199لسنرز

سپیکرز

نین سکھ کا پیش کردہ کلام

دل کا یہ دشت عرصۂ محشر لگا مجھے

دل کا یہ دشت عرصۂ محشر لگا مجھے میں کیا بلا ہوں رات بڑا ڈر لگا مجھے آگے بھی عشق میں ہوئیں رسوائیاں مگر اب کے وفا کا زخم جبیں پر لگا مجھے اے دل وہ مہرباں ہے یوں ہی بد گماں نہ ہو مارا تھا اس نے غیر کو پتھر لگا مجھے ہر سو ترے وجود کی خوشبو تھی خیمہ زن وہ دن کہ اپنا گھر بھی ترا گھر لگا مجھے ہنس کر نہ ٹال جا کہ یہ امید کی کرن وہ تیر ہے کہ سینے کے اندر لگا مجھے تاریکیٔ حیات کا اندازہ کر کہ آج داغ شکست مہر منور لگا مجھے سانچے تو تھے غزل کے سوا بھی مگر ظفرؔ کیا جانے کیوں یہ ظرف حسین تر لگا مجھے

— ظفراقبال

میرے اندر وہ میرے سوا کون تھا

میرے اندر وہ میرے سوا کون تھا میں تو تھا ہی مگر دوسرا کون تھا لوگ بھی کچھ تعارف کراتے رہے مجھ کو پہلے ہی معلوم تھا کون تھا لوگ اندازے ہی سب لگاتے رہے وہ جبیں کس کی تھی نقش پا کون تھا مجھ سے مل کر ہی اندازہ ہوگا کوئی وہ الگ کون تھا وہ جدا کون تھا کوئی جس پر نہ تھا موسموں کا اثر بعد ساون کے بھی وہ ہرا کون تھا جس کو احوال سارا تھا معلوم وہ بے خبر راستے میں پڑا کون تھا منتظر جس کی دنیا رہی دیر تک دور سے کوئی آتا ہوا کون تھا آئی جس کی مہک اس سے پہلے کہیں وہ سوار کمند ہوا کون تھا ریزہ ریزہ ہی پہچان میں تھا ظفرؔ جانتے تھے سبھی جا بجا کون تھا

— ظفراقبال