سپیکرز
نین سکھ کا پیش کردہ کلام
دل کا یہ دشت عرصۂ محشر لگا مجھے
دل کا یہ دشت عرصۂ محشر لگا مجھے میں کیا بلا ہوں رات بڑا ڈر لگا مجھے آگے بھی عشق میں ہوئیں رسوائیاں مگر اب کے وفا کا زخم جبیں پر لگا مجھے اے دل وہ مہرباں ہے یوں ہی بد گماں نہ ہو مارا تھا اس نے غیر کو پتھر لگا مجھے ہر سو ترے وجود کی خوشبو تھی خیمہ زن وہ دن کہ اپنا گھر بھی ترا گھر لگا مجھے ہنس کر نہ ٹال جا کہ یہ امید کی کرن وہ تیر ہے کہ سینے کے اندر لگا مجھے تاریکیٔ حیات کا اندازہ کر کہ آج داغ شکست مہر منور لگا مجھے سانچے تو تھے غزل کے سوا بھی مگر ظفرؔ کیا جانے کیوں یہ ظرف حسین تر لگا مجھے
میرے اندر وہ میرے سوا کون تھا
میرے اندر وہ میرے سوا کون تھا میں تو تھا ہی مگر دوسرا کون تھا لوگ بھی کچھ تعارف کراتے رہے مجھ کو پہلے ہی معلوم تھا کون تھا لوگ اندازے ہی سب لگاتے رہے وہ جبیں کس کی تھی نقش پا کون تھا مجھ سے مل کر ہی اندازہ ہوگا کوئی وہ الگ کون تھا وہ جدا کون تھا کوئی جس پر نہ تھا موسموں کا اثر بعد ساون کے بھی وہ ہرا کون تھا جس کو احوال سارا تھا معلوم وہ بے خبر راستے میں پڑا کون تھا منتظر جس کی دنیا رہی دیر تک دور سے کوئی آتا ہوا کون تھا آئی جس کی مہک اس سے پہلے کہیں وہ سوار کمند ہوا کون تھا ریزہ ریزہ ہی پہچان میں تھا ظفرؔ جانتے تھے سبھی جا بجا کون تھا