ظفراقبال

مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)

05 December 2025

18سپیکرز
199لسنرز

سپیکرز

سجاد رضا کا پیش کردہ کلام

ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے گا

ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے گا وہ خود ہی ایک دن اس دائرے سے گزرے گا بھری رہے ابھی آنکھوں میں اس کے نام کی نیند وہ خواب ہے تو یونہی دیکھنے سے گزرے گا جو اپنے آپ گزرتا ہے کوچۂ دل سے مجھے گماں تھا مرے مشورے سے گزرے گا قریب آنے کی تمہید ایک یہ بھی رہی وہ پہلے پہلے ذرا فاصلے سے گزرے گا قصوروار نہیں پھر بھی چھپتا پھرتا ہوں وہ میرا چور ہے اور سامنے سے گزرے گا چھپی ہو شاید اسی میں سلامتی دل کی یہ رفتہ رفتہ اگر ٹوٹنے سے گزرے گا ہماری سادہ دلی تھی جو ہم سمجھتے رہے کہ عکس ہے تو اسی آئینے سے گزرے گا سمجھ ہمیں بھی ہے اتنی کہ اس کا عہد ستم گزارنا ہے تو اب حوصلے سے گزرے گا گلی گلی مرے ذرے بکھر گئے تھے ظفرؔ خبر نہ تھی کہ وہ کس راستے سے گزرے گا

— ظفراقبال