ظفراقبال

مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)

05 December 2025

18سپیکرز
199لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہے

جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہے کیا کچھ ابھی تو جلوہ نما ہونے والا ہے یہ بھی درست ہے کہ پیمبر نہیں ہوں میں ہے یہ بھی سچ کہ میرا کہا ہونے والا ہے کچھ اشک خوں بچا کے بھی رکھیے کہ شہر میں جو ہو چکا ہے اس سے سوا ہونے والا ہے وہ وقت ہے کہ خلق پہ ہر ظلم ناروا اللہ کا نام لے کے روا ہونے والا ہے اک خوف ہے کہ ہونے ہی والا ہے جا گزیں اک خواب ہے کہ سب سے جدا ہونے والا ہے رنگ ہوا میں ہے عجب اسرار سا کوئی کوئی بھی جانتا نہیں کیا ہونے والا ہے خوش تھا سیاہ خانۂ دل میں بہت لہو اس قید سے مگر یہ رہا ہونے والا ہے یہ تیر آخری ہے بس اس کی کمان میں اور وہ بھی دیکھ لینا خطا ہونے والا ہے اک لہر ہے کہ مجھ میں اچھلنے کو ہے ظفرؔ اک لفظ ہے کہ مجھ سے ادا ہونے والا ہے

— ظفراقبال

آتش و انجماد ہے مجھ میں

آتش و انجماد ہے مجھ میں کیسا کیسا تضاد ہے مجھ میں خواب سے پہلے کچھ نہیں یکسر جو بھی ہے اس کے بعد ہے مجھ میں زخم کھلتے ہیں سانس گھٹتی ہے ایسی بست و کشاد ہے مجھ میں رنج دل ہے ہرا بھرا اب تک کوئی تو ہے جو شاد ہے مجھ میں دشمنی کا ہی رہ گیا سروکار ورنہ کس کا مفاد ہے مجھ میں کوئی اس کا سبب نہیں تو ہی یہ جو اتنا فساد ہے مجھ میں کوئی جلسہ ہے زور کا جیسے جس کا یہ انعقاد ہے مجھ میں جسے اب تک تلاش کرتا ہوں گم شدہ ایک یاد ہے مجھ میں آندھیاں سی جو چل رہی ہیں ظفرؔ صورت خاک و باد ہے مجھ میں

— ظفراقبال

آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھ

آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہوں ایسی ہی خوش امکانی کے ساتھ تم ہی بتلاؤ کہ اس کی قدر کیا ہوگی تمہیں جو محبت مفت میں مل جائے آسانی کے ساتھ بات ہے کچھ زندہ رہ جانا بھی اپنا آج تک لہر تھی آسودگی کی بھی پریشانی کے ساتھ چل رہا ہے کام سارا خوب مل جل کر یہاں کفر بھی چمٹا ہوا ہے جذب ایمانی کے ساتھ فرق پڑتا ہے کوئی لوگوں میں رہنے سے ضرور شہر کے آداب تھے اپنی بیابانی کے ساتھ یہ وہ دنیا ہے کہ جس کا کچھ ٹھکانا ہی نہیں ہم گزارہ کر رہے ہیں دشمن جانی کے ساتھ رائیگانی سے ذرا آگے نکل آئے ہیں ہم اس دفعہ تو کچھ گرانی بھی ہے ارزانی کے ساتھ اپنی مرضی سے بھی ہم نے کام کر ڈالے ہیں کچھ لفظ کو لڑوا دیا ہے بیشتر معنی کے ساتھ فاصلوں ہی فاصلوں میں جان سے ہارا ظفرؔ عشق تھا لاہوریے کو ایک ملتانی کے ساتھ

— ظفراقبال