سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہے
جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہے کیا کچھ ابھی تو جلوہ نما ہونے والا ہے یہ بھی درست ہے کہ پیمبر نہیں ہوں میں ہے یہ بھی سچ کہ میرا کہا ہونے والا ہے کچھ اشک خوں بچا کے بھی رکھیے کہ شہر میں جو ہو چکا ہے اس سے سوا ہونے والا ہے وہ وقت ہے کہ خلق پہ ہر ظلم ناروا اللہ کا نام لے کے روا ہونے والا ہے اک خوف ہے کہ ہونے ہی والا ہے جا گزیں اک خواب ہے کہ سب سے جدا ہونے والا ہے رنگ ہوا میں ہے عجب اسرار سا کوئی کوئی بھی جانتا نہیں کیا ہونے والا ہے خوش تھا سیاہ خانۂ دل میں بہت لہو اس قید سے مگر یہ رہا ہونے والا ہے یہ تیر آخری ہے بس اس کی کمان میں اور وہ بھی دیکھ لینا خطا ہونے والا ہے اک لہر ہے کہ مجھ میں اچھلنے کو ہے ظفرؔ اک لفظ ہے کہ مجھ سے ادا ہونے والا ہے
آتش و انجماد ہے مجھ میں
آتش و انجماد ہے مجھ میں کیسا کیسا تضاد ہے مجھ میں خواب سے پہلے کچھ نہیں یکسر جو بھی ہے اس کے بعد ہے مجھ میں زخم کھلتے ہیں سانس گھٹتی ہے ایسی بست و کشاد ہے مجھ میں رنج دل ہے ہرا بھرا اب تک کوئی تو ہے جو شاد ہے مجھ میں دشمنی کا ہی رہ گیا سروکار ورنہ کس کا مفاد ہے مجھ میں کوئی اس کا سبب نہیں تو ہی یہ جو اتنا فساد ہے مجھ میں کوئی جلسہ ہے زور کا جیسے جس کا یہ انعقاد ہے مجھ میں جسے اب تک تلاش کرتا ہوں گم شدہ ایک یاد ہے مجھ میں آندھیاں سی جو چل رہی ہیں ظفرؔ صورت خاک و باد ہے مجھ میں
آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھ
آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہوں ایسی ہی خوش امکانی کے ساتھ تم ہی بتلاؤ کہ اس کی قدر کیا ہوگی تمہیں جو محبت مفت میں مل جائے آسانی کے ساتھ بات ہے کچھ زندہ رہ جانا بھی اپنا آج تک لہر تھی آسودگی کی بھی پریشانی کے ساتھ چل رہا ہے کام سارا خوب مل جل کر یہاں کفر بھی چمٹا ہوا ہے جذب ایمانی کے ساتھ فرق پڑتا ہے کوئی لوگوں میں رہنے سے ضرور شہر کے آداب تھے اپنی بیابانی کے ساتھ یہ وہ دنیا ہے کہ جس کا کچھ ٹھکانا ہی نہیں ہم گزارہ کر رہے ہیں دشمن جانی کے ساتھ رائیگانی سے ذرا آگے نکل آئے ہیں ہم اس دفعہ تو کچھ گرانی بھی ہے ارزانی کے ساتھ اپنی مرضی سے بھی ہم نے کام کر ڈالے ہیں کچھ لفظ کو لڑوا دیا ہے بیشتر معنی کے ساتھ فاصلوں ہی فاصلوں میں جان سے ہارا ظفرؔ عشق تھا لاہوریے کو ایک ملتانی کے ساتھ