سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا
یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا غزال اشک سر صبح دوب مژگاں پر کب آنکھ اپنی کھلی اور لہو لہو نہ ملا چمکتے چاند بھی تھے شہر شب کے ایواں میں نگار غم سا مگر کوئی شمع رو نہ ملا انہی کی رمز چلی ہے گلی گلی میں یہاں جنہیں ادھر سے کبھی اذن گفتگو نہ ملا پھر آج مے کدۂ دل سے لوٹ آئے ہیں پھر آج ہم کو ٹھکانے کا ہم سبو نہ ملا
کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہے
کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہے یقین کیوں نہیں آتا اگر رکا ہوا ہے گزرنے والے تھے جو بھی گزر گئے لیکن میان راہ کوئی بے خبر رکا ہوا ہے برس رہا ہے نہ چھٹتا ہے یہ کئی دن سے جو ایک ابر مری خاک پر رکا ہوا ہے رواں بھی سلسلۂ اشک ہے ابھی کچھ کچھ یہ قافلہ جو کہیں بیشتر رکا ہوا ہے ابھی نکل نہیں سکتا گھروں سے کوئی یہاں کہ سیل آب ابھی در بدر رکا ہوا ہے ہر ایک شے ہے کسی راکھ میں بدلنے کو کہیں جو خانۂ خس میں شرر رکا ہوا ہے چلی ہوئی تھی مری بات جتنے زوروں سے اسی حساب سے اس کا اثر رکا ہوا ہے پہنچ سکے کسی منزل پہ کیا مسافر دل کہ چل رہا ہے بظاہر مگر رکا ہوا ہے یہ حرف و صوت کرشمے ہیں سب اسی کے ظفرؔ لہو کے ساتھ رگوں میں جو ڈر رکا ہوا ہے