ظفراقبال

مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)

05 December 2025

18سپیکرز
199لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا غزال اشک سر صبح دوب مژگاں پر کب آنکھ اپنی کھلی اور لہو لہو نہ ملا چمکتے چاند بھی تھے شہر شب کے ایواں میں نگار غم سا مگر کوئی شمع رو نہ ملا انہی کی رمز چلی ہے گلی گلی میں یہاں جنہیں ادھر سے کبھی اذن گفتگو نہ ملا پھر آج مے کدۂ دل سے لوٹ آئے ہیں پھر آج ہم کو ٹھکانے کا ہم سبو نہ ملا

— ظفراقبال

کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہے

کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہے یقین کیوں نہیں آتا اگر رکا ہوا ہے گزرنے والے تھے جو بھی گزر گئے لیکن میان راہ کوئی بے خبر رکا ہوا ہے برس رہا ہے نہ چھٹتا ہے یہ کئی دن سے جو ایک ابر مری خاک پر رکا ہوا ہے رواں بھی سلسلۂ اشک ہے ابھی کچھ کچھ یہ قافلہ جو کہیں بیشتر رکا ہوا ہے ابھی نکل نہیں سکتا گھروں سے کوئی یہاں کہ سیل آب ابھی در بدر رکا ہوا ہے ہر ایک شے ہے کسی راکھ میں بدلنے کو کہیں جو خانۂ خس میں شرر رکا ہوا ہے چلی ہوئی تھی مری بات جتنے زوروں سے اسی حساب سے اس کا اثر رکا ہوا ہے پہنچ سکے کسی منزل پہ کیا مسافر دل کہ چل رہا ہے بظاہر مگر رکا ہوا ہے یہ حرف و صوت کرشمے ہیں سب اسی کے ظفرؔ لہو کے ساتھ رگوں میں جو ڈر رکا ہوا ہے

— ظفراقبال