افتخارعارف

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)

30 November 2025

20سپیکرز
359لسنرز

سپیکرز

عمارہ قاضی کا پیش کردہ کلام

خواب تو خواب ہیں

خواب تو خواب ہیں ان پہ بندش نہیں عقل کہتی رہے لاکھ کوشش کرو ریگ زاروں میں پانی ابلتا نہیں بت بناتے رہوآگ کے دوش پر پنکھڑی سے سنو ہونٹ کی داستاں نیلگوں حاشیوں سے سجاتے رہو چشم حیرت کناں لمس چھوئے بنا تو بہلتا نہیں خواب تو خواب ہیں شوق تعبیر میں کب سے آنکھوں کی بستی میں رہتے ہیں یہ جیسے ہی بستی چشم کے درمقفل ہوئے جاگ جاتے ہیں یہ پھر سے تقسیم کرتے ہیں پیکر وہی پھر سجاتے ہیں اس کے ہر اک راز کو ہم کو معلو م ہے تم بس اک خواب ہو پھر بھی نہ جانے کیوں میرا ایکانت مجھ سے یہ کہتا رہے تم میرے پاس تھے تم میرے پاس ہو خواب تو خواب ہیں

— نا معلوم

مجھ سے باتیں کرو زندگی

مجھ سے باتیں کرو زندگی تم بھی شطرنج ہو اور عجلت میں آگے بڑھایا ہوا ایک پیادہ ہوں میں وقت کی چال ہے اور کب کیوں کہاں کی بھی مہلت نہیں زندگی زندگی میں پریشان ہوں مٹھیوں سے سرکتی ہوئی ریت سے ریت ہی ریت ہےمیرے چاروں طرف اور کچھ بھی نہیں اور کوئی نہیں کوئی بھی تو نہیں جس کو سمجھا سکوں گرچہ بہتات قلت سے زیادہ بھی ہو پر وہ معصوم آنکھیں جو دہلیز سے جھانکتی رہ گئیں کچھ بھی ان کی کمی سے زیادہ نہیں یہ جو میں ہوں یہ میں تو نہیں تھا کبھی میں کوئی اور تھا ایک حساس دل جو محبت سے بھرپور تھا ان دنوں ان دنوں جب مجھے یہ بتایا گیا زندگی شاعری اور محبت نہیں زندگی دوڑ ہے دوڑ ورنہ برا وقت آ جائے گا مڑ کے بھی دیکھنے کہ اجازت نہیں مڑ کے دیکھا تو بے وقت مر جائے گا مجھ کو روندے ہوؤں کی مثالوں سے اتنا ڈرایا گیا اور تصور میں بچوں کے فاقوں کا منظر دکھایا گیا آج میں تھک گیا ہوں مگر دوڑ میں روندے جانے کے ڈر سے ٹھہرتا نہیں عمر کا یہ پہر اک پہر ہی ہے لیکن گزرتا نہیں وقت کہتی تھی دنیا، ٹھہرتا نہیں نیند کیا خواب کیا اب تو کچھ بھی نہیں آنکھیں ویران ہیں خوش گمانی بھی کیا اک گماں ہی تو ہے ایک سکہ جو دنیا میں چلتا نہیں اک سہولت جو دراصل حاصل نہیں دوڑنا ہے مگر کوئی منزل نہیں زندگی تو امیدوں کی محتاج ہے زندگی کل کی پرسوں کی کس کو خبر زندگی جو بھی ہے آج ہی آج ہے ختم ہو گا کبھی کیا کہیں یہ سفر یا یونہی دوڑتا جاؤں گا عمر بھر میں پریشان ہوں وقت کی چال سے اور کب کیوں کہاں کی بھی مہلت نہیں اس قدر خامشی ہے کہ دھڑکن کی آواز بھی شور ہے کوئی تو بات ہو خود کلامی سہی ان کہی ان سنی کتنی باتیں ہیں جو نارسائی کے دفتر میں محصور ہیں مجھ سے باتیں کرو زندگی

— نا معلوم