افتخارعارف

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)

30 November 2025

20سپیکرز
359لسنرز

سپیکرز

حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام

عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی

عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی نئے سفر کے لیے راستہ نہ مانگے کوئی بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی تمام شہر مکرم بس ایک مجرم میں سو میرے بعد مرا خوں بہا نہ مانگے کوئی کوئی تو شہر تذبذب کے ساکنوں سے کہے نہ ہو یقین تو پھر معجزہ نہ مانگے کوئی عذاب گرد خزاں بھی نہ ہو بہار بھی آئے اس احتیاط سے اجر وفا نہ مانگے کوئی

— افتخارعارف