سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں
جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں تم نے پوچھا تو ہوتا بتلا سکتا تھا میں آسودہ رہنے کی خواہش مار گئی ورنہ آگے اور بہت آگے تک جا سکتا تھا میں چھوٹی موٹی ایک لہر ہی تھی میرے اندر ایک لہر سے کیا طوفان اٹھا سکتا تھا میں کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں جیسے سب لکھتے رہتے ہیں غزلیں نظمیں گیت ویسے لکھ لکھ کر انبار لگا سکتا تھا میں
اپنے آقا کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں
اپنے آقا کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں دل الجھتا ہے تو سینے کی طرف دیکھتے ہیں اب یہ دنیا جسے چاہے اسے دیکھے سر سیل ہم تو بس ایک سفینے کی طرف دیکھتے ہیں عہد آسودگیٔ جاں ہو کہ دور ادبار اسی رحمت کے خزینے کی طرف دیکھتے ہیں وہ جو پل بھر میں سر عرش بریں کھلتا ہے بس اسی نور کے زینے کی طرف دیکھتے ہیں بہر تصدیق سند نامۂ نسبت عشاق مہر خاتم کے نگینے کی طرف دیکھتے ہیں دیکھنے والوں نے دیکھے ہیں وہ آشفتہ مزاج جو حرم سے بھی مدینے کی طرف دیکھتے ہیں