افتخارعارف

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)

30 November 2025

20سپیکرز
359لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں

جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں تم نے پوچھا تو ہوتا بتلا سکتا تھا میں آسودہ رہنے کی خواہش مار گئی ورنہ آگے اور بہت آگے تک جا سکتا تھا میں چھوٹی موٹی ایک لہر ہی تھی میرے اندر ایک لہر سے کیا طوفان اٹھا سکتا تھا میں کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں جیسے سب لکھتے رہتے ہیں غزلیں نظمیں گیت ویسے لکھ لکھ کر انبار لگا سکتا تھا میں

— افتخارعارف

اپنے آقا کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں

اپنے آقا کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں دل الجھتا ہے تو سینے کی طرف دیکھتے ہیں اب یہ دنیا جسے چاہے اسے دیکھے سر سیل ہم تو بس ایک سفینے کی طرف دیکھتے ہیں عہد آسودگیٔ جاں ہو کہ دور ادبار اسی رحمت کے خزینے کی طرف دیکھتے ہیں وہ جو پل بھر میں سر عرش بریں کھلتا ہے بس اسی نور کے زینے کی طرف دیکھتے ہیں بہر تصدیق سند نامۂ نسبت عشاق مہر خاتم کے نگینے کی طرف دیکھتے ہیں دیکھنے والوں نے دیکھے ہیں وہ آشفتہ مزاج جو حرم سے بھی مدینے کی طرف دیکھتے ہیں

— افتخارعارف