افتخارعارف

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)

30 November 2025

20سپیکرز
359لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے

مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے یہ روشنی کے تعاقب میں بھاگتا ہوا دن جو تھک گیا ہے تو اب اس کو مختصر کر دے میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے ستارۂ سحری ڈوبنے کو آیا ہے ذرا کوئی مرے سورج کو با خبر کر دے قبیلہ وار کمانیں کڑکنے والی ہیں مرے لہو کی گواہی مجھے نڈر کر دے میں اپنے خواب سے کٹ کر جیوں تو میرا خدا اجاڑ دے مری مٹی کو در بدر کر دے مری زمین مرا آخری حوالہ ہے سو میں رہوں نہ رہوں اس کو بارور کر دے

— افتخارعارف

تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا

تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا اسے تو یوں بھی کسی اور سمت جانا تھا وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا متاع جاں کا بدل ایک پل کی سرشاری سلوک خواب کا آنکھوں سے تاجرانہ تھا ہوا کی کاٹ شگوفوں نے جذب کر لی تھی تبھی تو لہجۂ خوشبو بھی جارحانہ تھا وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصل نئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھا قبائے زرد نگار خزاں پہ سجتی تھی تبھی تو چال کا انداز خسروانہ تھا

— افتخارعارف

اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرا

اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرا ہوائیں محفوظ کر رہی ہیں کلام میرا میں کچھ کریموں کے بابِ نعمت سے منسلک ہوں سو خود بخود ہو رہا ہے سب انتظام میرا تو کیا یہی اک گُمان ہے ہر سُخن کی بنیاد کہ حدِ تارِ نفس سے آگے ہو نام میرا میں سر کشی سے سپُردگی کی طرف چلا ہوں خدا جو چاہے تو یہ بھی بن جائے کام میرا چلا تو ہوں ایک منزلِ خوش خبر کی جانب عجب نہیں یہ سفر بھی ہو ناتمام میرا دلوں کو تاراج کرنے آیا تھا تمکنت سے پلٹ گیا مجھ کو دیکھ کر خوش خرام میرا جو لالہ و گُل کو خار و خس سے جُدا نہ کر پائے ہر ایسے موسم کو دُور ہی سے سلام میرا یہ قتل نامے پہ دستخط تو مرے نہیں ہیں مگر یہ خلقِ خدا جو لیتی ہے نام میرا یہ میرے دُشمن یونہی تو پسپا نہیں ہوئے ہیں کوئی تو ہے لے رہا ہے جو انتقام میرا

— افتخارعارف