سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے یہ روشنی کے تعاقب میں بھاگتا ہوا دن جو تھک گیا ہے تو اب اس کو مختصر کر دے میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے ستارۂ سحری ڈوبنے کو آیا ہے ذرا کوئی مرے سورج کو با خبر کر دے قبیلہ وار کمانیں کڑکنے والی ہیں مرے لہو کی گواہی مجھے نڈر کر دے میں اپنے خواب سے کٹ کر جیوں تو میرا خدا اجاڑ دے مری مٹی کو در بدر کر دے مری زمین مرا آخری حوالہ ہے سو میں رہوں نہ رہوں اس کو بارور کر دے
تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا
تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا اسے تو یوں بھی کسی اور سمت جانا تھا وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا متاع جاں کا بدل ایک پل کی سرشاری سلوک خواب کا آنکھوں سے تاجرانہ تھا ہوا کی کاٹ شگوفوں نے جذب کر لی تھی تبھی تو لہجۂ خوشبو بھی جارحانہ تھا وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصل نئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھا قبائے زرد نگار خزاں پہ سجتی تھی تبھی تو چال کا انداز خسروانہ تھا
اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرا
اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرا ہوائیں محفوظ کر رہی ہیں کلام میرا میں کچھ کریموں کے بابِ نعمت سے منسلک ہوں سو خود بخود ہو رہا ہے سب انتظام میرا تو کیا یہی اک گُمان ہے ہر سُخن کی بنیاد کہ حدِ تارِ نفس سے آگے ہو نام میرا میں سر کشی سے سپُردگی کی طرف چلا ہوں خدا جو چاہے تو یہ بھی بن جائے کام میرا چلا تو ہوں ایک منزلِ خوش خبر کی جانب عجب نہیں یہ سفر بھی ہو ناتمام میرا دلوں کو تاراج کرنے آیا تھا تمکنت سے پلٹ گیا مجھ کو دیکھ کر خوش خرام میرا جو لالہ و گُل کو خار و خس سے جُدا نہ کر پائے ہر ایسے موسم کو دُور ہی سے سلام میرا یہ قتل نامے پہ دستخط تو مرے نہیں ہیں مگر یہ خلقِ خدا جو لیتی ہے نام میرا یہ میرے دُشمن یونہی تو پسپا نہیں ہوئے ہیں کوئی تو ہے لے رہا ہے جو انتقام میرا