افتخارعارف

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)

30 November 2025

20سپیکرز
359لسنرز

سپیکرز

ماہر کا پیش کردہ کلام

واپسی کا سفر

میری تلاش مجھے لے چلی ہے ماضی میں تمہیں بتاؤ میں خود کو کہاں تلاش کروں پگھل پگھل کے صدا امتحاں کی آتش میں وجود ڈھل گیا میرا عجیب سانچوں میں وہ اک وجود جو رشتوں میں کھو گیا ہے کہیں اسی وجود کو پھر سے کہاں تلاش کروں تراشنا ہے نیا اک مجسمہ یا پھر میں اپنے گمشدہ حصوں کو پھر تلاش کروں تمہیں بتاؤ میں خود کو کہاں تلاش کروں سوال یہ ہے کہ تم سے ہی کیوں مخاطب ہوں چلو بتاؤں تمہیں کم سے کیوں سوال کیا تمہیں پہ آ کے رکا تھا محبتوں کا سفر تمہیں ہو آخری پہچان میرے ہونے کی تو کیوں نہ تم سے شروع ہو یہ واپسی کا سفر تمہارے پیار کے بدلے جو پیار تم کو دیا میری وفاؤں نے جو اختیار تم کو دیا وہ اختیار جو تم نے قفس میں ڈھال دیا اسی قفس سے رہائی ہے ابتدا میری تمہارے نام کیا تھا جو عمر کا حصہ یہ التجا ہے مری آج مجھ کو لوٹا دو بڑا کٹھن ہے میری جاں یہ واپسی کا سفر رہائی دے کے مجھے آج مجھ سے ملوا دو

— امیتاپرسورام