سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے جس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے شکل بننے نہیں پاتی کہ بگڑ جاتی ہے نئی مٹی کو نئے چاک سے خوف آتا ہے وقت نے ایسے گھمائے افق آفاق کہ بس محور گردش سفاک سے خوف آتا ہے یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا اب اسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے آگ جب آگ سے ملتی ہے تو لو دیتی ہے خاک کو خاک کی پوشاک سے خوف آتا ہے قامت جاں کو خوش آیا تھا کبھی خلعت عشق اب اسی جامۂ صد چاک سے خوف آتا ہے کبھی افلاک سے نالوں کے جواب آتے تھے ان دنوں عالم افلاک سے خوف آتا ہے رحمت سید لولاک پہ کامل ایمان امت سید لولاک سے خوف آتا ہے
آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ
آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ صبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پہلے خواب دیکھ دوش پر ترکش پڑا رہنے دے پہلے دل سنبھال دل سنبھل جائے تو سوئے سینہِ احباب دیکھ بوند میں سارا سمندر آنکھ میں کُل کائنات ایک مشتِ خاک میں سورج کی آب و تاب دیکھ افتخار عارف کے تند و تیز لہجے پر نہ جا افتخار عارف کی آنکھوں میں الجھتے خواب دیکھ
فنون لطیفہ
اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا! مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہے یہ ایک نفس یا دو نفس مثل شرر کیا! جس سے دل دریا متلاطم نہیں ہوتا اے قطرۂ نیساں وہ صدف کیا وہ گہر کیا! شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو جس سے چمن افسردہ ہو وہ باد سحر کیا! بے معجزہ دنیا میں ابھرتیں نہیں قومیں جو ضرب کلیمیؑ نہیں رکھتا وہ ہنر کیا!