افتخارعارف

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)

30 November 2025

20سپیکرز
359لسنرز

سپیکرز

وسیم بخاری کا پیش کردہ کلام

انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے

انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے یہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتے پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے پرندے جاتے نہ جاتے پلٹ کے گھر اپنے پر اپنے ہم شجروں سے تو با خبر رہتے بس ایک خاک کا احسان ہے کہ خیر سے ہیں وگرنہ صورت خاشاک در بہ در رہتے مرے کریم جو تیری رضا مگر اس بار برس گزر گئے شاخوں کو بے ثمر رہتے

— افتخارعارف

نہ مال و زر ہے نہ جاہ و حشم ہمارا ہے

نہ مال و زر ہے نہ جاہ و حشم ہمارا ہے مگر خدا کی عطا ہے قلم ہمارا ہے علَم کسی نے کسی کو دیا تھا خیبر میں وہ دن اور آج کا دن اب علَم ہمارا ہے

— افتخارعارف