سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
آزاد
انتظار حسین
ایم سعید
باسط میر
تنویراعوان
حسن سید
حسن شبیر
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
سجاد رضا
سید جینٹلمین
صباگل
صفانقوی
عدنان جرال
عمارہ قاضی
ماہر
ملک
وسیم بخاری
وسیم بخاری کا پیش کردہ کلام
انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے
انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے یہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتے پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے پرندے جاتے نہ جاتے پلٹ کے گھر اپنے پر اپنے ہم شجروں سے تو با خبر رہتے بس ایک خاک کا احسان ہے کہ خیر سے ہیں وگرنہ صورت خاشاک در بہ در رہتے مرے کریم جو تیری رضا مگر اس بار برس گزر گئے شاخوں کو بے ثمر رہتے
نہ مال و زر ہے نہ جاہ و حشم ہمارا ہے
نہ مال و زر ہے نہ جاہ و حشم ہمارا ہے مگر خدا کی عطا ہے قلم ہمارا ہے علَم کسی نے کسی کو دیا تھا خیبر میں وہ دن اور آج کا دن اب علَم ہمارا ہے