سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیں
ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیں یہ دل کا ساتھ بہت دیر تک رہے گا نہیں ہمیں خبر تھی کوئی آنکھ نم نہیں ہو گی ہمارے غم میں کہیں کوئی دل دکھے گا نہیں ہمیں خبر تھی کہ اک روز یہ بھی ہونا ہے کہ ہم کلام کریں گے کوئی سنے گا نہیں ہماری دربدری جانتی تھی برسوں سے گھر آئیں گے بھی تو کوئی پناہ دے گا نہیں ہماری طرح نہ آئے گا کوئی نرغے میں ہماری طرح کوئی قافلہ لٹے گا نہیں نمودِ خواب کی باتیں شکستِ خواب کا ذکر ہمارے بعد یہ قصے کوئی کہے گا نہیں
ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا ہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا تھکے ہارے ہوئے سورج کی بھیگی روشنی میں ہواؤں سے الجھتا بادباں کیسا لگے گا جمے قدموں کے نیچے سے پھسلتی جائے گی ریت بکھر جائے گی جب عمر رواں کیسا لگے گا اسی مٹی میں مل جائے گی پونجی عمر بھر کی گرے گی جس گھڑی دیوار جاں کیسا لگے گا بہت اترا رہے ہو دل کی بازی جیتنے پر زیاں بعد از زیاں بعد از زیاں کیسا لگے گا وہ جس کے بعد ہوگی اک مسلسل بے نیازی گھڑی بھر کا وہ سب شور و فغاں کیسا لگے گا ابھی سے کیا بتائیں مرگ مجنوں کی خبر پر سلوک کوچۂ نا مہرباں کیسا لگے گا بتاؤ تو سہی اے جان جاں کیسا لگے گا ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں
خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں چلیے پہلے نہیں پوچھا تھا تو اب پوچھتے ہیں کیسے خوش طبع ہیں اس شہر دل آزار کے لوگ موج خوں سر سے گزر جاتی ہے تب پوچھتے ہیں اہل دنیا کا تو کیا ذکر کہ دیوانوں کو صاحبان دل شوریدہ بھی کب پوچھتے ہیں خاک اڑاتی ہوئی راتیں ہوں کہ بھیگے ہوئے دن اول صبح کے غم آخر شب پوچھتے ہیں ایک ہم ہی تو نہیں ہیں جو اٹھاتے ہیں سوال جتنے ہیں خاک بسر شہر کے سب پوچھتے ہیں یہی مجبور یہی مہر بہ لب بے آواز پوچھنے پر کبھی آئیں تو غضب پوچھتے ہیں کرم مسند و منبر کہ اب ارباب حکم ظلم کر چکتے ہیں تب مرضیٔ رب پوچھتے ہیں
مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنا
مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنا کہیں طے پا رہا ہے شہر کا مسمار رہنا نمودِ خواب کے اور انہدامِ خواب کے بیچ قیامت مرحلہ ہے دل کا ناہموار رہنا دلوں کے درمیاں دوری کے دن ہیں اور ہم کو اسی موسم میں تنہا برسرِ پیکار رہنا اندھیری رات اور شورِ سگان کوئے دُشنام اور ایسے میں کسی اک آنکھ کا بیدار رہنا تماشا کرنے والے آ رہے ہیں جوق در جوق گروہ ِپابجولاں! رقص کو تیار رہنا ہوائے کوئے قاتل بے ادب ہونے لگی ہے چراغِ جادهٔ صدق و صفا ہشیار رہنا یہ دشواری تو آسانی کا خمیازہ ہے ورنہ بہت ہی سہل تھا ہم کو بہت دشوار رہنا ادھر کچھ دن سے اس بستی کو راس آنے لگا ہے ہم آشفتہ سروں کے در پے آزار رہنا