افتخارعارف

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)

30 November 2025

20سپیکرز
359لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیں

ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیں یہ دل کا ساتھ بہت دیر تک رہے گا نہیں ہمیں خبر تھی کوئی آنکھ نم نہیں ہو گی ہمارے غم میں کہیں کوئی دل دکھے گا نہیں ہمیں خبر تھی کہ اک روز یہ بھی ہونا ہے کہ ہم کلام کریں گے کوئی سنے گا نہیں ہماری دربدری جانتی تھی برسوں سے گھر آئیں گے بھی تو کوئی پناہ دے گا نہیں ہماری طرح نہ آئے گا کوئی نرغے میں ہماری طرح کوئی قافلہ لٹے گا نہیں نمودِ خواب کی باتیں شکستِ خواب کا ذکر ہمارے بعد یہ قصے کوئی کہے گا نہیں

— افتخارعارف

ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا

ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا ہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا تھکے ہارے ہوئے سورج کی بھیگی روشنی میں ہواؤں سے الجھتا بادباں کیسا لگے گا جمے قدموں کے نیچے سے پھسلتی جائے گی ریت بکھر جائے گی جب عمر رواں کیسا لگے گا اسی مٹی میں مل جائے گی پونجی عمر بھر کی گرے گی جس گھڑی دیوار جاں کیسا لگے گا بہت اترا رہے ہو دل کی بازی جیتنے پر زیاں بعد از زیاں بعد از زیاں کیسا لگے گا وہ جس کے بعد ہوگی اک مسلسل بے نیازی گھڑی بھر کا وہ سب شور و فغاں کیسا لگے گا ابھی سے کیا بتائیں مرگ مجنوں کی خبر پر سلوک کوچۂ نا مہرباں کیسا لگے گا بتاؤ تو سہی اے جان جاں کیسا لگے گا ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا

— افتخارعارف

خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں

خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں چلیے پہلے نہیں پوچھا تھا تو اب پوچھتے ہیں کیسے خوش طبع ہیں اس شہر دل آزار کے لوگ موج خوں سر سے گزر جاتی ہے تب پوچھتے ہیں اہل دنیا کا تو کیا ذکر کہ دیوانوں کو صاحبان دل شوریدہ بھی کب پوچھتے ہیں خاک اڑاتی ہوئی راتیں ہوں کہ بھیگے ہوئے دن اول صبح کے غم آخر شب پوچھتے ہیں ایک ہم ہی تو نہیں ہیں جو اٹھاتے ہیں سوال جتنے ہیں خاک بسر شہر کے سب پوچھتے ہیں یہی مجبور یہی مہر بہ لب بے آواز پوچھنے پر کبھی آئیں تو غضب پوچھتے ہیں کرم مسند و منبر کہ اب ارباب حکم ظلم کر چکتے ہیں تب مرضیٔ رب پوچھتے ہیں

— افتخارعارف

مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنا

مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنا کہیں طے پا رہا ہے شہر کا مسمار رہنا نمودِ خواب کے اور انہدامِ خواب کے بیچ قیامت مرحلہ ہے دل کا ناہموار رہنا دلوں کے درمیاں دوری کے دن ہیں اور ہم کو اسی موسم میں تنہا برسرِ پیکار رہنا اندھیری رات اور شورِ سگان کوئے دُشنام اور ایسے میں کسی اک آنکھ کا بیدار رہنا تماشا کرنے والے آ رہے ہیں جوق در جوق گروہ ِپابجولاں! رقص کو تیار رہنا ہوائے کوئے قاتل بے ادب ہونے لگی ہے چراغِ جادهٔ صدق و صفا ہشیار رہنا یہ دشواری تو آسانی کا خمیازہ ہے ورنہ بہت ہی سہل تھا ہم کو بہت دشوار رہنا ادھر کچھ دن سے اس بستی کو راس آنے لگا ہے ہم آشفتہ سروں کے در پے آزار رہنا

— افتخارعارف