افتخارعارف

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)

30 November 2025

20سپیکرز
359لسنرز

سپیکرز

حسن شبیر کا پیش کردہ کلام

بہت دنوں کی بات ہے

بہت دنوں کی بات ہے فضا کو یاد بھی نہیں یہ بات آج کی نہیں بہت دنوں کی بات ہے شباب پر بہار تھی فضا بھی خوش گوار تھی نہ جانے کیوں مچل پڑا میں اپنے گھر سے چل پڑا کسی نے مجھ کو روک کر تری ادا سے ٹوک کر کہا تھا لوٹ آئیے مری قسم نہ جائیے نہ جائیے نہ جائیے مجھے مگر خبر نہ تھی ماحول پر نظر نہ تھی نہ جانے کیوں مچل پڑا میں اپنے گھر سے چل پڑا میں چل پڑا میں چل پڑا میں شہر سے پھر آ گیا خیال تھا کہ پا گیا اسے جو مجھ سے دور تھی مگر مری ضرور تھی اور اک حسین شام کو میں چل پڑا سلام کو گلی کا رنگ دیکھ کر نئی ترنگ دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی میں کچھ اسی خوشی میں تھا کسی نے جھانک کر کہا پرائے گھر سے جائیے مری قسم نہ آئیے نہ آئیے نہ آئیے وہی حسین شام ہے بہار جس کا نام ہے چلا ہوں گھر کو چھوڑ کر نہ جانے جاؤں گا کدھر کوئی نہیں جو ٹوک کر کوئی نہیں جو روک کر کہے کہ لوٹ آئیے مری قسم نہ جائیے بہت دنوں کی بات ہے فضا کو یاد بھی نہیں یہ بات آج کی نہیں بہت دنوں کی بات ہے

— سلام شہری مچھلی