سپیکرز
سجاد رضا کا پیش کردہ کلام
سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں
سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں ابھی سے برف الجھنے لگی ہے بالوں سے ابھی تو قرض مہ و سال بھی اتارا نہیں بس ایک شام اسے آواز دی تھی ہجر کی شام پھر اس کے بعد اسے عمر بھر پکارا نہیں ہوا کچھ ایسی چلی ہے کہ تیرے وحشی کو مزاج پرسی باد صبا گوارا نہیں سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت کسی کو ہم نے مدد کے لیے پکارا نہیں وہ ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سر بازار جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں ہم اہل دل ہیں محبت کی نسبتوں کے امین ہمارے پاس زمینوں کا گوشوارہ نہیں
یہ دُنیا اک سور کے گوشت کی ہڈی کی صورت
یہ دُنیا اک سور کے گوشت کی ہڈی کی صورت کوڑھیوں کے ہاتھ میں ہے اور میں نان و نمک کی جستجو میں دربدر قریہ بہ قریہ مارا مارا پھر رہا ہوں ذرا سی دیر کی جھوٹی فضیلت کے لیے ٹھوکر پہ ٹھوکر کھا رہا ہوں ہر قدم پر منزل عز و شرف سے گر رہا ہوں اور مری انگشتری پر یا علیؑ لکھا ہوا ہے مگر انگشتری پر یا علیؑ کندہ کرا لینے سے کیا ہوگا کہ دل تو مرحبوں کی دسترس میں ہے مسلسل نرغہ ِ حرص و ہوس میں ہے (عجب عالم ہے آنکھیں دیکھتی ہیں اور دل سینوں میں اندھے ہو چکے ہیں) اور ایسے میں کوئی حرفِ دُعا اک خواب بُنتا ہے کبھی سلمان ؓ آتے ہیں کبھی بوذرؓ کبھی میثمؓ کبھی قنبر ؓ میری ڈھارس بندھاتے ہیں کمیلؑ آتے ہیں کہتے ہیں پکارو افتخار عارف پکارو اپنے مولا کو پکارو اپنے مولا کے وسیلے سے پکارو اُجیب دعوت الداع کا دعوی کرنے والے کو پکارو یہ مشکل بھی کوئی مشکل ہے دل چھوٹا نہیں کرتے کریم اپنے غلاموں کو کبھی تنہا نہیں کرتے کبھی رسوا نہیں کرتے