افتخارعارف

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)

30 November 2025

20سپیکرز
359لسنرز

سپیکرز

آدرش کا پیش کردہ کلام

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی کبھی ہوتی تھی مٹی اور کبھی ہوتی نہیں تھی بہت پہلے سے افسردہ چلے آتے ہیں ہم تو بہت پہلے کہ جب افسردگی ہوتی نہیں تھی ہمیں ان حالوں ہونا بھی کوئی آسان تھا کیا محبت ایک تھی اور ایک بھی ہوتی نہیں تھی دیا پہنچا نہیں تھا آگ پہنچی تھی گھروں تک پھر ایسی آگ جس سے روشنی ہوتی نہیں تھی نکل جاتے تھے سر پر بے سر و سامانی لادے بھری لگتی تھی گٹھری اور بھری ہوتی نہیں تھی ہمیں یہ عشق تب سے ہے کہ جب دن بن رہا تھا شب ہجراں جب اتنی سرسری ہوتی نہیں تھی ہمیں جا جا کے کہنا پڑتا تھا ہم ہیں یہیں ہیں کہ جب موجودگی موجودگی ہوتی نہیں تھی بہت تکرار رہتی تھی بھرے گھر میں کسی سے جو شے درکار ہوتی تھی وہی ہوتی نہیں تھی تمہی کو ہم بسر کرتے تھے اور دن ماپتے تھے ہمارا وقت اچھا تھا گھڑی ہوتی نہیں تھی

— شاہین عباس