سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے
یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے یہ تیرے میرے چراغوں کی ضد جہاں سے چلی وہیں کہیں سے علاقہ ہوا کا لگتا ہے دل ان کے ساتھ مگر تیغ اور شخص کے ساتھ یہ سلسلہ بھی کچھ اہل ریا کا لگتا ہے نئی گرہ نئے ناخن نئے مزاج کے قرض مگر یہ پیچ بہت ابتدا کا لگتا ہے کہاں میں اور کہاں فیضان نغمہ و آہنگ کرشمہ سب در و بست نوا کا لگتا ہے
خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گے
خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گے سندر کومل دھیان تتلیاں بے پر ہوں گی تب سوچیں گے رس برسانے والے بادل اور طرف کیوں اڑ جاتے ہیں ہری بھری شاداب کھیتیاں بنجر ہوں گی تب سوچیں گے بستی کی دیوار پہ کس نے ان ہونی باتیں لکھ دی ہیں اس ان جانے ڈر کی باتیں گھر گھر ہوں گی تب سوچیں گے مانگے کے پھولوں سے کب تک روپ سروپ کا مان بڑھے گا اپنے آنگن کی مہکاریں بے گھر ہوں گی تب سوچیں گے بیتی رت کی سب پہچانیں بھول گئے تو پھر کیا ہوگا گئے دنوں کی یادیں جب بے منظر ہوں گی تب سوچیں گے آنے والے کل کا سواگت کیسے ہوگا کون کرے گا جلتے ہوئے سورج کی کرنیں سر پر ہوں گی تب سوچیں گے