افتخارعارف

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)

30 November 2025

20سپیکرز
359لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے

یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے یہ تیرے میرے چراغوں کی ضد جہاں سے چلی وہیں کہیں سے علاقہ ہوا کا لگتا ہے دل ان کے ساتھ مگر تیغ اور شخص کے ساتھ یہ سلسلہ بھی کچھ اہل ریا کا لگتا ہے نئی گرہ نئے ناخن نئے مزاج کے قرض مگر یہ پیچ بہت ابتدا کا لگتا ہے کہاں میں اور کہاں فیضان نغمہ و آہنگ کرشمہ سب در و بست نوا کا لگتا ہے

— افتخارعارف

خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گے

خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گے سندر کومل دھیان تتلیاں بے پر ہوں گی تب سوچیں گے رس برسانے والے بادل اور طرف کیوں اڑ جاتے ہیں ہری بھری شاداب کھیتیاں بنجر ہوں گی تب سوچیں گے بستی کی دیوار پہ کس نے ان ہونی باتیں لکھ دی ہیں اس ان جانے ڈر کی باتیں گھر گھر ہوں گی تب سوچیں گے مانگے کے پھولوں سے کب تک روپ سروپ کا مان بڑھے گا اپنے آنگن کی مہکاریں بے گھر ہوں گی تب سوچیں گے بیتی رت کی سب پہچانیں بھول گئے تو پھر کیا ہوگا گئے دنوں کی یادیں جب بے منظر ہوں گی تب سوچیں گے آنے والے کل کا سواگت کیسے ہوگا کون کرے گا جلتے ہوئے سورج کی کرنیں سر پر ہوں گی تب سوچیں گے

— افتخارعارف