سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے کبھی مل جائے تو رستے کی تھکن جاگ پڑے ایسی منزل سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے وہی پیماں جو کبھی جی کو خوش آیا تھا بہت اسی پیماں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے
دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو میں اس کے ہاتھ نہ آؤں وہ میرا ہو کے رہے میں گر پڑوں تو مری پستیوں کا ساتھی ہو وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہو کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں میں چپ رہوں تو مرے تیوروں کا ساتھی ہو میں اپنے آپ کو دیکھوں وہ مجھ کو دیکھے جائے وہ میرے نفس کی گمراہیوں کا ساتھی ہو وہ خواب دیکھے تو دیکھے مرے حوالے سے مرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو
محبت کی ایک نظم
میری زندگی میں بس اک کتاب ہے، اک چراغ ہے ایک خواب ہے اور تم ہو یہ کتاب و خواب کے درمیان جو منزلیں ہیں میں چاہتا تھا تمھارے ساتھ بسر کروں یہی کل اثاثہ زندگی ہے اسی کو زادِ سفر کروں کسی اور سمت نظر کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہو مرے دل کے جادہٴ خوش خبر پہ بجز تمھارے کبھی کسی کا گزر نہ ہو مگر اس طرح کہ تمہیں بھی اِسکی خبر نہ ہو اسی احتياط میں ساری عمر گزر گئی وہ جو آرزو تھی کتاب و خواب کے ساتھ تم بھی شریک ہو، وہی مر گئی اِسی کشمکش نے کئی سوال اٹھائے ہیں وہ سوال جن کا جواب میری کتاب میں ہے نہ خواب میں مرے دل کے جادہٴ خوش خبر کے رفیق تم ہی بتاؤ پھر کے یہ کاروبارِ حیات کس کے حساب میں مری زندگی میں بس اک کتاب ہےاک چراغ ہے اک خواب ہےاور تم ہو!