افتخارعارف

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)

30 November 2025

20سپیکرز
359لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے کبھی مل جائے تو رستے کی تھکن جاگ پڑے ایسی منزل سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے وہی پیماں جو کبھی جی کو خوش آیا تھا بہت اسی پیماں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے

— افتخارعارف

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو میں اس کے ہاتھ نہ آؤں وہ میرا ہو کے رہے میں گر پڑوں تو مری پستیوں کا ساتھی ہو وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہو کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں میں چپ رہوں تو مرے تیوروں کا ساتھی ہو میں اپنے آپ کو دیکھوں وہ مجھ کو دیکھے جائے وہ میرے نفس کی گمراہیوں کا ساتھی ہو وہ خواب دیکھے تو دیکھے مرے حوالے سے مرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو

— افتخارعارف

محبت کی ایک نظم

میری زندگی میں بس اک کتاب ہے، اک چراغ ہے ایک خواب ہے اور تم ہو یہ کتاب و خواب کے درمیان جو منزلیں ہیں میں چاہتا تھا تمھارے ساتھ بسر کروں یہی کل اثاثہ زندگی ہے اسی کو زادِ سفر کروں کسی اور سمت نظر کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہو مرے دل کے جادہٴ خوش خبر پہ بجز تمھارے کبھی کسی کا گزر نہ ہو مگر اس طرح کہ تمہیں بھی اِسکی خبر نہ ہو اسی احتياط میں ساری عمر گزر گئی وہ جو آرزو تھی کتاب و خواب کے ساتھ تم بھی شریک ہو، وہی مر گئی اِسی کشمکش نے کئی سوال اٹھائے ہیں وہ سوال جن کا جواب میری کتاب میں ہے نہ خواب میں مرے دل کے جادہٴ خوش خبر کے رفیق تم ہی بتاؤ پھر کے یہ کاروبارِ حیات کس کے حساب میں مری زندگی میں بس اک کتاب ہےاک چراغ ہے اک خواب ہےاور تم ہو!

— افتخارعارف