سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
آزاد
انتظار حسین
ایم سعید
باسط میر
تنویراعوان
حسن سید
حسن شبیر
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
سجاد رضا
سید جینٹلمین
صباگل
صفانقوی
عدنان جرال
عمارہ قاضی
ماہر
ملک
وسیم بخاری
صفانقوی کا پیش کردہ کلام
کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے
کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے موت رُسوا ہو چکی ہے زندگی سجدے میں ہے وہ جو اک سجدہ علی ؑ کا بچ رہا تھا وقتِ فجر فاطمہؑ کا لال شاید اب اُسی سجدے میں ہے سنتِ پیغمبرؐ خاتم ہے سجدے کا یہ طول کل نبیؐ سجدے میں تھے آج اک ولی سجدے میں ہے وہ جو عاشورہ کی شب گُل ہو گیا تھا اک چراغ اب قیامت تک اُسی کی روشنی سجدے میں ہے حشر تک جس کی قسم کھاتے رہیں گے اہلِ حق ایک نفسِ مطمئن اُس دائمی سجدے میں ہے نوکِ نیزہ پر بھی ہونی ہے تلاوت بعد عصر مصحفِ ناطق تہِ خنجر ابھی سجدے میں ہے اِس پہ حیرت کیا لرز اُٹھی زمین کربلا راکبِ دوشِ پیمبرؐ آخری سجدے میں ہے