افتخارعارف

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)

30 November 2025

20سپیکرز
359لسنرز

سپیکرز

صفانقوی کا پیش کردہ کلام

کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے

کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے موت رُسوا ہو چکی ہے زندگی سجدے میں ہے وہ جو اک سجدہ علی ؑ کا بچ رہا تھا وقتِ فجر فاطمہؑ کا لال شاید اب اُسی سجدے میں ہے سنتِ پیغمبرؐ خاتم ہے سجدے کا یہ طول کل نبیؐ سجدے میں تھے آج اک ولی سجدے میں ہے وہ جو عاشورہ کی شب گُل ہو گیا تھا اک چراغ اب قیامت تک اُسی کی روشنی سجدے میں ہے حشر تک جس کی قسم کھاتے رہیں گے اہلِ حق ایک نفسِ مطمئن اُس دائمی سجدے میں ہے نوکِ نیزہ پر بھی ہونی ہے تلاوت بعد عصر مصحفِ ناطق تہِ خنجر ابھی سجدے میں ہے اِس پہ حیرت کیا لرز اُٹھی زمین کربلا راکبِ دوشِ پیمبرؐ آخری سجدے میں ہے

— افتخارعارف