کلامِ شاعر
- 01 ملنے کا جب کہا تو ملا دکھ ہوا مجھے
- 02 جنون میں کر دیا تھا کب کچھ نہیں پتہ تھا
- 03 گزشتہ شب یوں لگا کہ اندر سے کٹ رہا ہوں
- 04 جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا
- 05 مو قلم توڑ چکا آخری تصویر کے بعد
- 06 ہمیں تحفظ کا خبط، چھُپنے کی لت نہیں تھی
- 07 لیتے تھے لطف ہم اَدَبی اختلاف کا
- 08 لگتا ہے کر کے لمبا سفر آ رہا ہوں میں
- 09 زیست کم لگتی تھی دشوار زیادہ نکلی
- 10 نظر ٹھہرتی نہیں ہے، رخ آفتاب ہی ہے
- 11 اک دن زباں سکوت کی پوری بناؤں گا
- 12 کوئی حسین بدن جن کی دسترس میں نہیں
- 13 کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے
- 14 کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑے
- 15 چاہتا ہوں کہ نظر نور سے مانوس نہ ہو
- 16 ہر اک ہزار میں بس پانچ سات ہیں ہم لوگ
- 17 بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں
- 18 اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہے
- 19 بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے
- 20 جاؤ! مجھے ڈراؤ نہ کارِ ملال سے
- 21 منظر دھندھلے روشنیاں مدھم ہوتی ہیں
- 22 (غیر) حاضر
- 23 تجھے نہ آئیں گی مفلس کی مشکلات سمجھ
- 24 اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میں
- 25 دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا
- 26 ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے
- 27 بندوق تانتے ہیں ہدف دیکھتے ہیں بس