کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

فائیٹر کا پیش کردہ کلام

بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے

بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے میرے کسی پہلو میں قضا ہے کہ نہیں ہے سنتا ہوں اک آہٹ سی برابر شب وعدہ جانے ترے قدموں کی صدا ہے کہ نہیں ہے سچ ہے کہ محبت میں ہمیں موت نے مارا کچھ اس میں تمہاری بھی خطا ہے کہ نہیں ہے مت دیکھ کہ پھرتا ہوں ترے ہجر میں زندہ یہ پوچھ کہ جینے میں مزہ ہے کہ نہیں ہے یوں ڈھونڈتے پھرتے ہیں مرے بعد مجھے وہ وہ کیفؔ کہیں تیرا پتہ ہے کہ نہیں ہے

— کیف بھوپالی