سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سحربیاں
سید جینٹلمین
فائیٹر
کریسنٹ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
حسین بلوچ کا پیش کردہ کلام
ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے
ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے ہمارے زخم دل داغ جگر کچھ ملتے جلتے ہیں گلوں سے گل رخوں سے مہوشوں سے ماہ پاروں سے زمانے میں کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے گپھاؤں سے پہاڑوں سے بیابانوں سے غاروں سے برابر ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے کنوؤں سے پن گھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے کبھی پتھر کے دل اے کیفؔ پگھلے ہیں نہ پگھلیں گے مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے