کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

حسین بلوچ کا پیش کردہ کلام

ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے

ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے ہمارے زخم دل داغ جگر کچھ ملتے جلتے ہیں گلوں سے گل رخوں سے مہوشوں سے ماہ پاروں سے زمانے میں کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے گپھاؤں سے پہاڑوں سے بیابانوں سے غاروں سے برابر ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے کنوؤں سے پن گھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے کبھی پتھر کے دل اے کیفؔ پگھلے ہیں نہ پگھلیں گے مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے

— کیف بھوپالی