کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہے وہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے خود سے مل جاتے تو چاہت کا بھرم رہ جاتا کیا ملے آپ جو لوگوں کے ملانے سے ملے ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے کبھی لکھوانے گئے خط کبھی پڑھوانے گئے ہم حسینوں سے اسی حیلے بہانے سے ملے اک نیا زخم ملا ایک نئی عمر ملی جب کسی شہر میں کچھ یار پرانے سے ملے ایک ہم ہی نہیں پھرتے ہیں لیے قصۂ غم ان کے خاموش لبوں پر بھی فسانے سے ملے کیسے مانیں کہ انہیں بھول گیا تو اے کیفؔ ان کے خط آج ہمیں تیرے سرہانے سے ملے

— کیف بھوپالی

در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی

در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی پھر یہ بارش میری تنہائی چرانے آئی زندگی باپ کی مانند سزا دیتی ہے رحم دل ماں کی طرح موت بچانے آئی آج کل پھر دل برباد کی باتیں ہیں وہی ہم تو سمجھے تھے کہ کچھ عقل ٹھکانے آئی دل میں آہٹ سی ہوئی روح میں دستک گونجی کس کی خوش بو یہ مجھے میرے سرہانے آئی میں نے جب پہلے پہل اپنا وطن چھوڑا تھا دور تک مجھ کو اک آواز بلانے آئی تیری مانند تری یاد بھی ظالم نکلی جب بھی آئی ہے مرا دل ہی دکھانے آئی

— کیف بھوپالی