سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے
داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہے وہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے خود سے مل جاتے تو چاہت کا بھرم رہ جاتا کیا ملے آپ جو لوگوں کے ملانے سے ملے ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے کبھی لکھوانے گئے خط کبھی پڑھوانے گئے ہم حسینوں سے اسی حیلے بہانے سے ملے اک نیا زخم ملا ایک نئی عمر ملی جب کسی شہر میں کچھ یار پرانے سے ملے ایک ہم ہی نہیں پھرتے ہیں لیے قصۂ غم ان کے خاموش لبوں پر بھی فسانے سے ملے کیسے مانیں کہ انہیں بھول گیا تو اے کیفؔ ان کے خط آج ہمیں تیرے سرہانے سے ملے
در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی
در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی پھر یہ بارش میری تنہائی چرانے آئی زندگی باپ کی مانند سزا دیتی ہے رحم دل ماں کی طرح موت بچانے آئی آج کل پھر دل برباد کی باتیں ہیں وہی ہم تو سمجھے تھے کہ کچھ عقل ٹھکانے آئی دل میں آہٹ سی ہوئی روح میں دستک گونجی کس کی خوش بو یہ مجھے میرے سرہانے آئی میں نے جب پہلے پہل اپنا وطن چھوڑا تھا دور تک مجھ کو اک آواز بلانے آئی تیری مانند تری یاد بھی ظالم نکلی جب بھی آئی ہے مرا دل ہی دکھانے آئی