کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے

تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے حسینوں سے رقیبوں سے غموں سے غم گساروں سے انہیں میں چھین کر لایا ہوں کتنے دعوے داروں سے شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے پہاڑوں سے گپھاؤں سے بیابانوں سے غاروں سے ہمارے داغ دل زخم جگر کچھ ملتے جلتے ہیں گلوں سے گل رخوں سے مہ وشوں سے ماہ پاروں سے کبھی ہوتا نہیں محسوس وہ یوں قتل کرتے ہیں نگاہوں سے کنکھیوں سے اداؤں سے اشاروں سے ہمیشہ ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے کنوؤں سے پنگھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے نہ آئے پر نہ آئے وہ انہیں کیا کیا خبر بھیجی لفافوں سے خطوں سے دکھ بھرے پرچوں سے تاروں سے زمانے میں کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھا دشہرے سے دوالی سے بسنتوں سے بہاروں سے کبھی پتھر کے دل اے کیفؔ پگھلے ہیں نہ پگھلیں گے مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے

— کیف بھوپالی

ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نے

ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نے دین چھڑایا دھرم چھڑایا دیس چھڑایا لوگوں نے تیری گلی میں آ نکلے تھے دوش ہمارا اتنا تھا پتھر مارے تہمت باندھی عیب لگایا لوگوں نے تیری لٹوں میں سو لیتے تھے بے گھر عاشق بے گھر لوگ بوڑھے برگد آج تجھے بھی کاٹ گرایا لوگوں نے نور سحر نے نکہت گل نے رنگ شفق نے کہہ دی بات کتنا کتنا میری زباں پر قفل لگایا لوگوں نے میرؔ تقی کے رنگ کا غازہ روئے غزل پر آ نہ سکا کیفؔ ہمارے میرؔ تقی کا رنگ اڑایا لوگوں نے

— کیف بھوپالی