سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے
تن تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے حسینوں سے رقیبوں سے غموں سے غم گساروں سے انہیں میں چھین کر لایا ہوں کتنے دعوے داروں سے شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے پہاڑوں سے گپھاؤں سے بیابانوں سے غاروں سے ہمارے داغ دل زخم جگر کچھ ملتے جلتے ہیں گلوں سے گل رخوں سے مہ وشوں سے ماہ پاروں سے کبھی ہوتا نہیں محسوس وہ یوں قتل کرتے ہیں نگاہوں سے کنکھیوں سے اداؤں سے اشاروں سے ہمیشہ ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے کنوؤں سے پنگھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے نہ آئے پر نہ آئے وہ انہیں کیا کیا خبر بھیجی لفافوں سے خطوں سے دکھ بھرے پرچوں سے تاروں سے زمانے میں کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھا دشہرے سے دوالی سے بسنتوں سے بہاروں سے کبھی پتھر کے دل اے کیفؔ پگھلے ہیں نہ پگھلیں گے مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے
ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نے
ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نے دین چھڑایا دھرم چھڑایا دیس چھڑایا لوگوں نے تیری گلی میں آ نکلے تھے دوش ہمارا اتنا تھا پتھر مارے تہمت باندھی عیب لگایا لوگوں نے تیری لٹوں میں سو لیتے تھے بے گھر عاشق بے گھر لوگ بوڑھے برگد آج تجھے بھی کاٹ گرایا لوگوں نے نور سحر نے نکہت گل نے رنگ شفق نے کہہ دی بات کتنا کتنا میری زباں پر قفل لگایا لوگوں نے میرؔ تقی کے رنگ کا غازہ روئے غزل پر آ نہ سکا کیفؔ ہمارے میرؔ تقی کا رنگ اڑایا لوگوں نے