کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے

صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے تیرا دیوانہ تری گلیوں میں دیکھا جائے ہے آپ کس کس کو بھلا سولی چڑھاتے جائیں گے اب تو سارا شہر ہی منصور بنتا جائے ہے دلبروں کے بھیس میں پھرتے ہیں چوروں کے گروہ جاگتے رہیو کہ ان راتوں میں لوٹا جائے ہے تیرا مے خانہ ہے یا خیرات خانہ ساقیا اس طرح ملتا ہے بادہ جیسے بخشا جائے ہے مے کشو آگے بڑھو تشنہ لبو آگے بڑھو اپنا حق مانگا نہیں جاتا ہے چھینا جائے ہے موت آئی اور تصور آپ کا رخصت ہوا جیسے منزل تک کوئی رہ رو کو پہونچا جائے ہے

— کیف بھوپالی