کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دے

تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دے تو آ کے جان رات کے منظر میں ڈال دے جس دن مری جبیں کسی دہلیز پر جھکے اس دن خدا شگاف مرے سر میں ڈال دے اللہ تیرے ساتھ ہے ملاح کو نہ دیکھ یہ ٹوٹی پھوٹی ناؤ سمندر میں ڈال دے آ تیرے مال و زر کو میں تقدیس بخش دوں لا اپنا مال و زر مری ٹھوکر میں ڈال دے بھاگ ایسے رہنما سے جو لگتا ہے خضر سا جانے یہ کس جگہ تجھے چکر میں ڈال دے اس سے ترے مکان کا منظر ہے بد نما چنگاری میرے پھوس کے چھپر میں ڈال دے میں نے پناہ دی تجھے بارش کی رات میں تو جاتے جاتے آگ مرے گھر میں ڈال دے اے کیفؔ جاگتے تجھے پچھلا پہر ہوا اب لاش جیسے جسم کو بستر میں ڈال دے

— کیف بھوپالی

جب ہمیں مسجد جانا پڑا ہے

جب ہمیں مسجد جانا پڑا ہے راہ میں اک مے خانہ پڑا ہے جائیے اب کیوں جانب صحرا شہر تو خود ویرانہ پڑا ہے ہم نہ پئیں گے بھیک کی ساقی لے یہ ترا پیمانہ پڑا ہے حرج نہ ہو تو دیکھتے چلئے راہ میں اک دیوانہ پڑا ہے ختم ہوئی سب رات کی محفل ایک پر پروانہ پڑا ہے

— کیف بھوپالی