کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھ

کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھ اب یہ کواڑ بند کرو خامشی کے ساتھ سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کا امید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ چلتے ہیں بچ کے شیخ و برہمن کے سائے سے اپنا یہی عمل ہے برے آدمی کے ساتھ شائستگان شہر مجھے خواہ کچھ کہیں سڑکوں کا حسن ہے مری آوارگی کے ساتھ شاعر حکایتیں نہ سنا وصل و عشق کی اتنا بڑا مذاق نہ کر شاعری کے ساتھ لکھتا ہے غم کی بات مسرت کے موڈ میں مخصوص ہے یہ طرز فقط کیفؔ ہی کے ساتھ

— کیف بھوپالی

خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہے

خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہے غالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے قتل تو نہیں بدلا قتل کی ادا بدلی تیر کی جگہ قاتل ساز اٹھائے بیٹھا ہے ان کے چاہنے والے دھوپ دھوپ پھرتے ہیں غیر ان کے کوچے میں سائے سائے بیٹھا ہے وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیری اک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے دور بارش اے گلچیں وا ہے دیدۂ نرگس آج ہر گل نرگس خار کھائے بیٹھا ہے

— کیف بھوپالی