سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھ
کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھ اب یہ کواڑ بند کرو خامشی کے ساتھ سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کا امید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ چلتے ہیں بچ کے شیخ و برہمن کے سائے سے اپنا یہی عمل ہے برے آدمی کے ساتھ شائستگان شہر مجھے خواہ کچھ کہیں سڑکوں کا حسن ہے مری آوارگی کے ساتھ شاعر حکایتیں نہ سنا وصل و عشق کی اتنا بڑا مذاق نہ کر شاعری کے ساتھ لکھتا ہے غم کی بات مسرت کے موڈ میں مخصوص ہے یہ طرز فقط کیفؔ ہی کے ساتھ
خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہے
خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہے غالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے قتل تو نہیں بدلا قتل کی ادا بدلی تیر کی جگہ قاتل ساز اٹھائے بیٹھا ہے ان کے چاہنے والے دھوپ دھوپ پھرتے ہیں غیر ان کے کوچے میں سائے سائے بیٹھا ہے وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیری اک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے دور بارش اے گلچیں وا ہے دیدۂ نرگس آج ہر گل نرگس خار کھائے بیٹھا ہے