کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

تہذیب کا ہے حکم ،،، کہ بازارِ عام میں

تہذیب کا ہے حکم ،،، کہ بازارِ عام میں کپڑوں پہ کوئی خاک اُڑا دے تو چُپ رہو گالی جو کوئی دے تو پلٹ کر نہ دیکھنا ٹوپی اُتار کر جو بھگا دے تو چُپ رہو مذہب کا حکم ہے ،،، کہ عمل نیک ہو تِرا نیکی میں تیری جان بھی جائے ، تو صبر کر بچّے کو تیرے جب کہ نہ ھڈی بھی ہو نصِیب کتّا کوئی پُلاؤ بھی کھائے ، تو صبر کر قانون کا ہے حکم ،،، کہ بھیڑیں بنے رہو حدِ اَدب سے پاؤں بڑھایا ، تو جُرم ہے حق ہے مہاجنوں کا ، ستاتے رہیں تو ٹھیک لیکن ،،، کِسی نے اُن کو ستایا ، تو جُرم ہے فطرت کا حکم ہے ،،، کہ بھرو پیٹ ہر طرح کھاتے ہُوئے کے مُنہ کا نِوالہ ہی کیوں نہ ہو سر توڑ کر وصُول کرو بُھوک کا خراج کوئی پٹھان ، یا کوئی لالہ ہی کیوں نہ ہو جب ہاتھ تنگ ہو تو گھروں میں اتر پڑو تاریک رات ، دِن کا اُجالا ہی کیوں نہ ہو دَھکّا جو کوئی دے تو گِرا دو زمین پر رشکِ صنوبر و قدِ بالا ہی کیوں نہ ہو گالی جو کوئی دے تو زباں کھینچ لِیجئے چاہے کِسی رئیس کا سالا ہی کیوں نہ ہو ہر ظُلم کا جواب تشدد سے دِیجئے اس کا ہدف خُود افسرِ اعلیٰ ہی کیوں نہ ہو اے آدمی پُکار تُجھے کیا پسند ہے وَرنہ پھر آج سے درِ تقدیر بند ہے

— کیف بھوپالی