سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
جس پہ تری شمشیر نہیں ہے
جس پہ تری شمشیر نہیں ہے اس کی کوئی توقیر نہیں ہے اس نے یہ کہہ کر پھیر دیا خط خون سے کیوں تحریر نہیں ہے زخم جگر میں جھانک کے دیکھو کیا یہ تمہارا تیر نہیں ہے زخم لگے ہیں کھلنے گلچیں یہ تو تری جاگیر نہیں ہے شہر میں یوم امن ہے واعظ آج تری تقریر نہیں ہے اودی گھٹا تو واپس ہو جا آج کوئی تدبیر نہیں ہے شہر محبت کا یوں اجڑا دور تلک تعمیر نہیں ہے اتنی حیا کیوں آئینے سے یہ تو مری تصویر نہیں ہے
جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروں
جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروں دست قاتل بے ہنر ہے کیا کروں چاہتا ہوں پھونک دوں اس شہر کو شہر میں ان کا بھی گھر ہے کیا کروں وہ تو سو سو مرتبہ چاہیں مجھے میری چاہت میں کسر ہے کیا کروں پاؤں میں زنجیر کانٹے آبلے اور پھر حکم سفر ہے کیا کروں کیفؔ کا دل کیفؔ کا دل ہے مگر وہ نظر پھر وہ نظر ہے کیا کروں کیفؔ میں ہوں ایک نورانی کتاب پڑھنے والا کم نظر ہے کیا کروں