کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

جس پہ تری شمشیر نہیں ہے

جس پہ تری شمشیر نہیں ہے اس کی کوئی توقیر نہیں ہے اس نے یہ کہہ کر پھیر دیا خط خون سے کیوں تحریر نہیں ہے زخم جگر میں جھانک کے دیکھو کیا یہ تمہارا تیر نہیں ہے زخم لگے ہیں کھلنے گلچیں یہ تو تری جاگیر نہیں ہے شہر میں یوم امن ہے واعظ آج تری تقریر نہیں ہے اودی گھٹا تو واپس ہو جا آج کوئی تدبیر نہیں ہے شہر محبت کا یوں اجڑا دور تلک تعمیر نہیں ہے اتنی حیا کیوں آئینے سے یہ تو مری تصویر نہیں ہے

— کیف بھوپالی

جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروں

جسم پر باقی یہ سر ہے کیا کروں دست قاتل بے ہنر ہے کیا کروں چاہتا ہوں پھونک دوں اس شہر کو شہر میں ان کا بھی گھر ہے کیا کروں وہ تو سو سو مرتبہ چاہیں مجھے میری چاہت میں کسر ہے کیا کروں پاؤں میں زنجیر کانٹے آبلے اور پھر حکم سفر ہے کیا کروں کیفؔ کا دل کیفؔ کا دل ہے مگر وہ نظر پھر وہ نظر ہے کیا کروں کیفؔ میں ہوں ایک نورانی کتاب پڑھنے والا کم نظر ہے کیا کروں

— کیف بھوپالی