کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑک کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا دل کی قسمت ہی میں لکھا تھا اندھیرا شاید ورنہ مسجد کا دیا کس نے بجھایا ہوگا گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا کھیلنے کے لیے بچے نکل آئے ہوں گے چاند اب اس کی گلی میں اتر آیا ہوگا کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا

— کیف بھوپالی

تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیا

تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیا دو روز میں گلاب سا چہرہ اتر گیا جان بہار تم نے وہ کانٹے چبھوئے ہیں میں ہر گل شگفتہ کو چھونے سے ڈر گیا اس دل کے ٹوٹنے کا مجھے کوئی غم نہیں اچھا ہوا کہ پاپ کٹا درد سر گیا میں بھی سمجھ رہا ہوں کہ تم تم نہیں رہے تم بھی یہ سوچ لو کہ مرا کیفؔ مر گیا

— کیف بھوپالی