سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں
نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں سحر ہو گئی چند انگڑائیوں میں نہ رنگینیوں میں نہ رعنائیوں میں نظر گھر گئی اپنی پرچھائیوں میں مجھے مسکرا مسکرا کر نہ دیکھو مرے ساتھ تم بھی ہو رسوائیوں میں غضب ہو گیا ان کی محفل سے آنا گھرا جا رہا ہوں تماشائیوں میں محبت ہے یا آج ترک محبت ذرا مل تو جائیں وہ تنہائیوں میں ادھر آؤ تم کو نظر لگ نہ جائے چھپا لوں تمہیں دل کی گہرائیوں میں ارے سننے والو یہ نغمے نہیں ہیں مرے دل کی چیخیں ہیں شہنائیوں میں وہ اے کیفؔ جس دن سے میرے ہوئے ہیں تو سارا زمانہ ہے شیدائیوں میں
تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے
تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے ترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلے ادھر آ رقیب میرے میں تجھے گلے لگا لوں مرا عشق بے مزا تھا تری دشمنی سے پہلے کئی انقلاب آئے کئی خوش خرام گزرے نہ اٹھی مگر قیامت تری کم سنی سے پہلے مری صبح کے ستارے تجھے ڈھونڈتی ہیں آنکھیں کہیں رات ڈس نہ جائے تری روشنی سے پہلے