کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں

نہ آیا مزہ شب کی تنہائیوں میں سحر ہو گئی چند انگڑائیوں میں نہ رنگینیوں میں نہ رعنائیوں میں نظر گھر گئی اپنی پرچھائیوں میں مجھے مسکرا مسکرا کر نہ دیکھو مرے ساتھ تم بھی ہو رسوائیوں میں غضب ہو گیا ان کی محفل سے آنا گھرا جا رہا ہوں تماشائیوں میں محبت ہے یا آج ترک محبت ذرا مل تو جائیں وہ تنہائیوں میں ادھر آؤ تم کو نظر لگ نہ جائے چھپا لوں تمہیں دل کی گہرائیوں میں ارے سننے والو یہ نغمے نہیں ہیں مرے دل کی چیخیں ہیں شہنائیوں میں وہ اے کیفؔ جس دن سے میرے ہوئے ہیں تو سارا زمانہ ہے شیدائیوں میں

— کیف بھوپالی

تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے

تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے ترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلے ادھر آ رقیب میرے میں تجھے گلے لگا لوں مرا عشق بے مزا تھا تری دشمنی سے پہلے کئی انقلاب آئے کئی خوش خرام گزرے نہ اٹھی مگر قیامت تری کم سنی سے پہلے مری صبح کے ستارے تجھے ڈھونڈتی ہیں آنکھیں کہیں رات ڈس نہ جائے تری روشنی سے پہلے

— کیف بھوپالی