سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں
یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں ہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیں قبیلے والوں کے دل جوڑئیے مرے سردار سروں کو کاٹ کے سرداریاں نہیں چلتیں برا نہ مان اگر یار کچھ برا کہہ دے دلوں کے کھیل میں خودداریاں نہیں چلتیں چھلک چھلک پڑیں آنکھوں کی گاگریں اکثر سنبھل سنبھل کے یہ پنہاریاں نہیں چلتیں جناب کیفؔ یہ دلی ہے میرؔ و غالبؔ کی یہاں کسی کی طرف داریاں نہیں چلتیں
تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہے
تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہے صبح کا تارا کتنا پیارا لگتا ہے تم سے مل کر املی میٹھی لگتی ہے تم سے بچھڑ کر شہد بھی کھارا لگتا ہے رات ہمارے ساتھ تو جاگا کرتا ہے چاند بتا تو کون ہمارا لگتا ہے کس کو خبر یہ کتنی قیامت ڈھاتا ہے یہ لڑکا جو اتنا بیچارہ لگتا ہے تتلی چمن میں پھول سے لپٹی رہتی ہے پھر بھی چمن میں پھول کنوارا لگتا ہے کیفؔ وہ کل کا کیفؔ کہاں ہے آج میاں یہ تو کوئی وقت کا مارا لگتا ہے