کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں

یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں ہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیں قبیلے والوں کے دل جوڑئیے مرے سردار سروں کو کاٹ کے سرداریاں نہیں چلتیں برا نہ مان اگر یار کچھ برا کہہ دے دلوں کے کھیل میں خودداریاں نہیں چلتیں چھلک چھلک پڑیں آنکھوں کی گاگریں اکثر سنبھل سنبھل کے یہ پنہاریاں نہیں چلتیں جناب کیفؔ یہ دلی ہے میرؔ و غالبؔ کی یہاں کسی کی طرف داریاں نہیں چلتیں

— کیف بھوپالی

تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہے

تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہے صبح کا تارا کتنا پیارا لگتا ہے تم سے مل کر املی میٹھی لگتی ہے تم سے بچھڑ کر شہد بھی کھارا لگتا ہے رات ہمارے ساتھ تو جاگا کرتا ہے چاند بتا تو کون ہمارا لگتا ہے کس کو خبر یہ کتنی قیامت ڈھاتا ہے یہ لڑکا جو اتنا بیچارہ لگتا ہے تتلی چمن میں پھول سے لپٹی رہتی ہے پھر بھی چمن میں پھول کنوارا لگتا ہے کیفؔ وہ کل کا کیفؔ کہاں ہے آج میاں یہ تو کوئی وقت کا مارا لگتا ہے

— کیف بھوپالی