کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں

ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں تہمتیں بد نامیاں رسوائیاں زندگی شاید اسی کا نام ہے دوریاں مجبوریاں تنہائیاں کیا زمانے میں یوں ہی کٹتی ہے رات کروٹیں بیتابیاں انگڑائیاں کیا یہی ہوتی ہے شام انتظار آہٹیں گھبراہٹیں پرچھائیاں ایک رند مست کی ٹھوکر میں ہیں شاہیاں سلطانیاں دارائیاں ایک پیکر میں سمٹ کر رہ گئیں خوبیاں زیبائیاں رعنائیاں رہ گئیں اک طفل مکتب کے حضور حکمتیں آگاہیاں دانائیاں زخم دل کے پھر ہرے کرنے لگیں بدلیاں برکھا رتیں پروائیاں دیدہ و دانستہ ان کے سامنے لغزشیں ناکامیاں پسپائیاں میرے دل کی دھڑکنوں میں ڈھل گئیں چوڑیاں موسیقیاں شہنائیاں ان سے مل کر اور بھی کچھ بڑھ گئیں الجھنیں فکریں قیاس آرائیاں کیفؔ پیدا کر سمندر کی طرح وسعتیں خاموشیاں گہرائیاں

— کیف بھوپالی