سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سحربیاں
سید جینٹلمین
فائیٹر
کریسنٹ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
کام یہی ہے شام سویرے
کام یہی ہے شام سویرے تیری گلی کے سو سو پھیرے سامنے وہ ہیں زلف بکھیرے کتنے حسیں ہیں آج اندھیرے ہم تو ہیں تیرے پوجنے والے پاؤں نہ پڑوا تیرے میرے دل کو چرایا خیر چرایا آنکھ چرا کر جا نہ لٹیرے
گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیا
گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیا کٹ گیا دن تو ہمیں رات نے جینے نہ دیا کچھ محبت کو نہ تھا چین سے رکھنا منظور اور کچھ ان کی عنایات نے جینے نہ دیا حادثہ ہے کہ ترے سر پہ نہ الزام آیا واقعہ ہے کہ تری ذات نے جینے نہ دیا کیفؔ کے بھولنے والے کو خبر ہو کہ اسے صدمہ ترک ملاقات نے جینے نہ دیا