کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

کام یہی ہے شام سویرے

کام یہی ہے شام سویرے تیری گلی کے سو سو پھیرے سامنے وہ ہیں زلف بکھیرے کتنے حسیں ہیں آج اندھیرے ہم تو ہیں تیرے پوجنے والے پاؤں نہ پڑوا تیرے میرے دل کو چرایا خیر چرایا آنکھ چرا کر جا نہ لٹیرے

— کیف بھوپالی

گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیا

گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیا کٹ گیا دن تو ہمیں رات نے جینے نہ دیا کچھ محبت کو نہ تھا چین سے رکھنا منظور اور کچھ ان کی عنایات نے جینے نہ دیا حادثہ ہے کہ ترے سر پہ نہ الزام آیا واقعہ ہے کہ تری ذات نے جینے نہ دیا کیفؔ کے بھولنے والے کو خبر ہو کہ اسے صدمہ ترک ملاقات نے جینے نہ دیا

— کیف بھوپالی