سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائے
سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائے سیاہی خون بن جائے قلم تلوار ہو جائے زمانے سے کہو کچھ صاعقہ رفتار ہو جائے ہمارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو جائے زمانے کو تمنا ہے ترا دیدار کرنے کی مجھے یہ فکر ہے مجھ کو مرا دیدار ہو جائے وہ زلفیں سانپ ہیں بے شک اگر زنجیر بن جائیں محبت زہر ہے بے شک اگر آزار ہو جائے محبت سے تمہیں سرکار کہتے ہیں وگرنہ ہم نگاہیں ڈال دیں جس پر وہی سرکار ہو جائے
اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے
اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے غالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیری اک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے طالبان دید ان کے دھوپ دھوپ پھرتے ہیں غیر ان کے کوچے میں سائے سائے بیٹھا ہے اس طرف بھی اے صاحب التفات یک مژگاں اک غریب محفل میں سر جھکائے بیٹھا ہے دور باش اے گلچیں وا ہے دیدۂ نرگس آج ہر گل نازک خار کھائے بیٹھا ہے کیوں سنا نہیں دیتا فیصلہ مقدر کا نامہ بر مرے آگے خط چھپائے بیٹھا ہے صبح کی ہوا ان سے صرف اتنا کہہ دینا کوئی شمع کی اب تک لو بڑھائے بیٹھا ہے