کیف احمد صدیقی

داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی

13 January 2026

15سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائے

سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائے سیاہی خون بن جائے قلم تلوار ہو جائے زمانے سے کہو کچھ صاعقہ رفتار ہو جائے ہمارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو جائے زمانے کو تمنا ہے ترا دیدار کرنے کی مجھے یہ فکر ہے مجھ کو مرا دیدار ہو جائے وہ زلفیں سانپ ہیں بے شک اگر زنجیر بن جائیں محبت زہر ہے بے شک اگر آزار ہو جائے محبت سے تمہیں سرکار کہتے ہیں وگرنہ ہم نگاہیں ڈال دیں جس پر وہی سرکار ہو جائے

— کیف بھوپالی

اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے

اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے غالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیری اک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے طالبان دید ان کے دھوپ دھوپ پھرتے ہیں غیر ان کے کوچے میں سائے سائے بیٹھا ہے اس طرف بھی اے صاحب التفات یک مژگاں اک غریب محفل میں سر جھکائے بیٹھا ہے دور باش اے گلچیں وا ہے دیدۂ نرگس آج ہر گل نازک خار کھائے بیٹھا ہے کیوں سنا نہیں دیتا فیصلہ مقدر کا نامہ بر مرے آگے خط چھپائے بیٹھا ہے صبح کی ہوا ان سے صرف اتنا کہہ دینا کوئی شمع کی اب تک لو بڑھائے بیٹھا ہے

— کیف بھوپالی