باصر سلطان کاظمی

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)

29 December 2025

19سپیکرز
149لسنرز

سپیکرز

فائیٹر کا پیش کردہ کلام

بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف

بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف کہتا ہے دل کہ آج نکل جا کسی طرف تیور بہت خراب تھے سنتے ہیں کل ترے اچھا ہوا کہ ہم نے نہ دیکھا تری طرف جب بھی ملے ہم ان سے انہوں نے یہی کہا بس آج آنے والے تھے ہم آپ کی طرف اے دل یہ دھڑکنیں تری معمول کی نہیں لگتا ہے آ رہا ہے وہ فتنہ اسی طرف خوش تھا کہ چار نیکیاں ہیں جمع اس کے پاس نکلے گناہ بیسیوں الٹا مری طرف باصرؔ عدو سے ہم تو یونہی بد گماں رہے تھا ان کا التفات کسی اور ہی طرف

— باصر سلطان کاظمی