باصر سلطان کاظمی

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)

29 December 2025

19سپیکرز
149لسنرز

سپیکرز

حسین بلوچ کا پیش کردہ کلام

بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات

بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات ہم ہی کریں گے ان سے کسی روز جا کے بات کچھ بھی نکال سکتے ہیں مطلب وہ بات کا کرتا ہوں اس لیے میں بہت بچ بچا کے بات پیچیدہ ہو گئے ہیں ہمارے تعلقات کرنی پڑی ہے مجھ کو گھما کے پھرا کے بات اک ہم کہ لے کے بیٹھ گئے ایک لفظ کو اک وہ کہ چل دئے جو ہنسی میں اڑا کے بات کہتا ہوں دل کی بات گھٹا کر رقیب سے کرتا ہے وہ جو آگے بڑھا کے چڑھا کے بات وہ جو بنی ہوئی ہے رکاوٹ سی درمیاں ملنا ہو اب ہمیں تو ملیں وہ ہٹا کے بات مطلوب واعظوں کو ہیں شاید ہمارے اشک ہنسنے کی بھی وہ کرتے ہیں اکثر رلا کے بات باصرؔ بیان سادہ کو پایا ہے بے اثر کیجے ذرا سنوار کے قدرے بنا کے بات

— باصر سلطان کاظمی