سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے
کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے مری دعا ہے کہ وہ خوش رہے جہاں بھی رہے دل خراب یہ خواہش تری عجب ہے کہ وہ ستم بھی کم نہ کرے اور مہرباں بھی رہے ابھی زمین پہ جنت نہیں بنی یارو جہاں کے قصے سناتے ہو ہم وہاں بھی رہے رہا ہمیشہ ہی سامان مختصر اپنا مسافروں کی طرح ہم رہے جہاں بھی رہے جو ساتھ چلنے کے بھی مستحق نہ تھے باصرؔ کچھ ایسے لوگ یہاں میر کارواں بھی رہے
ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے
ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے مل ان سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے دن میں جو پھرا کرتے ہیں ہشیار و خبردار وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے ہم ان کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل رشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کام اب ہم بھی یہ دیکھیں گے وہ کیسے نہیں ہوتے ناکامی کی صورت میں ملے طعنۂ نایافت اب کام مرے اتنے بھی کچے نہیں ہوتے شب اہل ہوس ایسے پریشان تھے باصرؔ جیسے مہ و انجم کبھی دیکھے نہیں ہوتے