باصر سلطان کاظمی

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)

29 December 2025

19سپیکرز
149لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے

کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے مری دعا ہے کہ وہ خوش رہے جہاں بھی رہے دل خراب یہ خواہش تری عجب ہے کہ وہ ستم بھی کم نہ کرے اور مہرباں بھی رہے ابھی زمین پہ جنت نہیں بنی یارو جہاں کے قصے سناتے ہو ہم وہاں بھی رہے رہا ہمیشہ ہی سامان مختصر اپنا مسافروں کی طرح ہم رہے جہاں بھی رہے جو ساتھ چلنے کے بھی مستحق نہ تھے باصرؔ کچھ ایسے لوگ یہاں میر کارواں بھی رہے

— باصر سلطان کاظمی

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے مل ان سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے دن میں جو پھرا کرتے ہیں ہشیار و خبردار وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے ہم ان کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل رشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کام اب ہم بھی یہ دیکھیں گے وہ کیسے نہیں ہوتے ناکامی کی صورت میں ملے طعنۂ نایافت اب کام مرے اتنے بھی کچے نہیں ہوتے شب اہل ہوس ایسے پریشان تھے باصرؔ جیسے مہ و انجم کبھی دیکھے نہیں ہوتے

— باصر سلطان کاظمی