سپیکرز
مرزا جواد کا پیش کردہ کلام
دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے
دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے نئے ساتھیوں کی دھن میں تری دوستی کو چھوڑا کوئی تجھ سا بھی نہ پایا ترے شہر سے نکل کے وہی رسم کم نگاہی وہی رات کی سیاہی مرے شہر کے چراغو یہاں کیا کرو گے جل کے نئے خواب میری منزل تہہ آب میرا ساحل تمہیں کیا ملے گا یارو مرے ساتھ ساتھ چل کے سر شام آج کوئی مرے دل سے کہہ رہا ہے کوئی چاند بھی تو نکلے کوئی جام بھی تو چھلکے یہ جو گھر لٹا لٹا ہے یہ جو دل بجھا بجھا ہے اسی دل میں رہ گئے ہیں کئی آفتاب ڈھل کے یہ مشاہدہ ہے میرا رہ زندگی میں باصرؔ وہی منہ کے بل گرا ہے جو چلا سنبھل سنبھل کے
کیسی محفل میں اے دل تجھ کو لایا ہوں دیکھ ذرا
کیسی محفل میں اے دل تجھ کو لایا ہوں دیکھ ذرا میں نے تیرے عیش کرائے اب تو میرے عیش کرا لگتا ہے یہ ناصح بھی ہے جن کی طرح کی کوئی چیز یک دم آ دھمکے گا کہیں سے جوں ہی میں نے جام بھرا گاڑی کی رفتار بھی تیز ہے رستہ بھی ہے نا ہموار دھیرے دھیرے شانت ہوا ہوں پہلے تو میں بہت ڈرا اپنی مہارت پر تجھ کو بے جا تو نہ ہوگا اتنا مان میں بھی مان ہی لوں گا تجھ کو لیکن کھیل کے مجھے ہرا اپنے حال زبوں کا میں تقدیر پہ دھرتا تھا الزام اب معلوم ہوا باصرؔ یہ سب ہے تیرا کیا دھرا