باصر سلطان کاظمی

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)

29 December 2025

19سپیکرز
149لسنرز

سپیکرز

مرزا جواد کا پیش کردہ کلام

دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے

دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے نئے ساتھیوں کی دھن میں تری دوستی کو چھوڑا کوئی تجھ سا بھی نہ پایا ترے شہر سے نکل کے وہی رسم کم نگاہی وہی رات کی سیاہی مرے شہر کے چراغو یہاں کیا کرو گے جل کے نئے خواب میری منزل تہہ آب میرا ساحل تمہیں کیا ملے گا یارو مرے ساتھ ساتھ چل کے سر شام آج کوئی مرے دل سے کہہ رہا ہے کوئی چاند بھی تو نکلے کوئی جام بھی تو چھلکے یہ جو گھر لٹا لٹا ہے یہ جو دل بجھا بجھا ہے اسی دل میں رہ گئے ہیں کئی آفتاب ڈھل کے یہ مشاہدہ ہے میرا رہ زندگی میں باصرؔ وہی منہ کے بل گرا ہے جو چلا سنبھل سنبھل کے

— باصر سلطان کاظمی

کیسی محفل میں اے دل تجھ کو لایا ہوں دیکھ ذرا

کیسی محفل میں اے دل تجھ کو لایا ہوں دیکھ ذرا میں نے تیرے عیش کرائے اب تو میرے عیش کرا لگتا ہے یہ ناصح بھی ہے جن کی طرح کی کوئی چیز یک دم آ دھمکے گا کہیں سے جوں ہی میں نے جام بھرا گاڑی کی رفتار بھی تیز ہے رستہ بھی ہے نا ہموار دھیرے دھیرے شانت ہوا ہوں پہلے تو میں بہت ڈرا اپنی مہارت پر تجھ کو بے جا تو نہ ہوگا اتنا مان میں بھی مان ہی لوں گا تجھ کو لیکن کھیل کے مجھے ہرا اپنے حال زبوں کا میں تقدیر پہ دھرتا تھا الزام اب معلوم ہوا باصرؔ یہ سب ہے تیرا کیا دھرا

— باصر سلطان کاظمی