باصر سلطان کاظمی

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)

29 December 2025

19سپیکرز
149لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارا کم ہے دوستی میں تو کوئی شک نہیں اس کی پر وہ دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم از کم دو بار ہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک اشارا کم ہے ایک رخسار پہ دیکھا ہے وہ تل ہم نے بھی ہو سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے اتنی جلدی نہ بنا رائے مرے بارے میں ہم نے ہم راہ ابھی وقت گزارا کم ہے باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کو افسوس ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے سنوارا کم ہے آج تک اپنی سمجھ میں نہیں آیا باصرؔ کون سا کام ہے وہ جس میں خسارا کم ہے

— باصر سلطان کاظمی

اِتنے کڑوے دور میں شیریں مقالی کس طرح

اِتنے کڑوے دور میں شیریں مقالی کس طرح پوچھ مت اپنی زباں ہم نے سنبھالی کس طرح حُسن و خوبی اک طرف اُس پر وفا بھی ختم ہے ہم کو بہلاتا ہے محبوبِ خیالی کس طرح ہو گیا دل کے مکاں میں اک حسیں آ کر مکیں فکر یہ ہے اب کرائیں اِس کو خالی کس طرح پاوں رکھنا بھی جہاں کل تک نہ تھا زیبا اُنہیں وقت نے لا کر بنایا ہے سوالی کس طرح ہو گئے بے حال جو تیرے تغافل کے سبب کس طرح ہو گی مگر ان کی بحالی کس طرح گلشنِ جاں میں ہوائے شعر پھر سے چل پڑی جھومتی ہے پتی پتی ڈالی ڈالی کس طرح مدتیں درکار ہیں باصِر حصولِ صبر کو ایک دن میں تم نے یہ دولت کما لی کس طرح

— باصر سلطان کاظمی

جنگل میں مور

ایک دن اک مور سے کہنے لگی یہ مورنی خوش صدا ہے خوش ادا ہے خوش قدم خوش رنگ ہے اس بیاباں تک مگر افسوس تو محدود ہے جب کبھی میں دیکھتی ہوں محو تجھ کو رقص میں ایک خواہش بے طرح کرتی ہے مجھ کو بے قرار کاش تجھ کو دیکھ سکتی آنکھ ہر ذی روح کی کاش مخلوق خدا ہو تیرے فن سے فیضیاب مور بولا اے مری ہم رقص میری ہم نوا تو نہیں واقف کہ میں گھوما پھرا ہوں کس قدر کتنے جنگل میں نے جھانکے کتنی دیکھیں بستیاں ان گنت آنکھوں نے دیکھا میرا فن میرا ہنر داد لینا دیکھنے والوں سے تھا مقصد مرا اس طرح گویا انہیں تسخیر کر لیتا تھا میں دیکھتا جب ان کی آنکھوں میں ستائش کی چمک بس اسی لمحے پروں کو میرے لگ جاتے تھے پر پھر ہوا یوں ایک دن دوران رقص غالباً شیشے کا ٹکڑا یا کوئی کنکر چبھا رقص تو کیا چلنے پھرنے سے ہوا معذور میں رفتہ رفتہ ہو گیا اہل جہاں سے دور میں بعد مدت ایک دن پہنچا جو میں پنڈال میں دیکھتا کیا ہوں کہ اک طاؤس خوش قد خوش جمال مجھ سے بہتر اور کتنا مختلف کر رہا تھا اپنے فن سے اہل مجلس کو نہال دیر تک دیکھا کیا میں اس کو اوروں کی طرح یوں لگا جیسے وہ تھا میری جگہ میری طرح کاروان زندگی رکتا نہیں وقت کا دریا کبھی رکتا نہیں آج میں کل کوئی پرسوں کوئی اور اپنا اپنا وقت اپنا اپنا دور رقص کرتا ہوں اگر میں اب تو بس اپنے لیے یا فقط تیرے لیے تیرے لیے تیرے لیے

— باصر سلطان کاظمی