سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
سحربیاں
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
ابو لقمان
افراسیاب
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
سجاد علی
ظفر نقوی
عبدالقدیر
فائیٹر
کریسنٹ
مدثر ثانی
مرزا جواد
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
کتنا کام کریں گے
کتنا کام کریں گے اب آرام کریں گے تیرے دیے ہوئے دکھ تیرے نام کریں گے اہل درد ہی آخر خوشیاں عام کریں گے نوکری چھوڑ کے باصرؔ اپنا کام کریں گے
ہم کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گئے
ہم کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گئے اظہار کچھ ہوا بھی تو ابہام رہ گئے آزاد ہو کے جوں ہی کھلے میرے بال و پر مجھ پر کھلا کہ پاؤں تہ دام رہ گئے میں دے سکا نہ ان کو کسی تجربے کی آنچ افسوس کچھ خیال مرے خام رہ گئے کرتی رہی زباں مری بے دست و پا مجھے باتوں میں عمر بیت گئی کام رہ گئے میں راہ دیکھتا رہا یاروں کی صبح تک باصرؔ بھرے بھرائے مرے جام رہ گئے