باصر سلطان کاظمی

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)

29 December 2025

19سپیکرز
149لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو

دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو پھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو صورت حالات ہی پر بات کرنی ہے اگر پھر مخاطب ہو کوئی بھی انجمن کوئی بھی ہو ہے وہی لا حاصلی دست ہنر کی منتظر آخرش سر پھوڑتا ہے کوہ کن کوئی بھی ہو شاعری میں آج بھی ملتا ہے ناصرؔ کا نشاں ڈھونڈتے ہیں ہم اسے بزم سخن کوئی بھی ہو عادتیں اور حاجتیں باصرؔ بدلتی ہیں کہاں رقص بن رہتا نہیں طاؤس بن کوئی بھی ہو

— باصر سلطان کاظمی

بیتے ہوئے دنوں کی فضا یاد آ گئی

بیتے ہوئے دنوں کی فضا یاد آ گئی وہ چاندنی وہ گھر وہ ہوا یاد آ گئی جیسے کوئی پکار رہا ہو کہیں مجھے یہ آدھی رات کس کی صدا یاد آ گئی تازہ تھا زخمِ ہجر تو تدبیر کچھ نہ کی اب لا علاج ہے تو دوا یاد آ گئی وہ شکل دُور رہ کے بھی ہے کتنی مہرباں جب دل نے اُس کو یاد کیا یاد آ گئی باصرِؔ کسی سے عہدِ وفا کر رہے تھے آج ناگاہ پھر کسی کی وفا یاد آ گئی

— باصر سلطان کاظمی