سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو
دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو پھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو صورت حالات ہی پر بات کرنی ہے اگر پھر مخاطب ہو کوئی بھی انجمن کوئی بھی ہو ہے وہی لا حاصلی دست ہنر کی منتظر آخرش سر پھوڑتا ہے کوہ کن کوئی بھی ہو شاعری میں آج بھی ملتا ہے ناصرؔ کا نشاں ڈھونڈتے ہیں ہم اسے بزم سخن کوئی بھی ہو عادتیں اور حاجتیں باصرؔ بدلتی ہیں کہاں رقص بن رہتا نہیں طاؤس بن کوئی بھی ہو
بیتے ہوئے دنوں کی فضا یاد آ گئی
بیتے ہوئے دنوں کی فضا یاد آ گئی وہ چاندنی وہ گھر وہ ہوا یاد آ گئی جیسے کوئی پکار رہا ہو کہیں مجھے یہ آدھی رات کس کی صدا یاد آ گئی تازہ تھا زخمِ ہجر تو تدبیر کچھ نہ کی اب لا علاج ہے تو دوا یاد آ گئی وہ شکل دُور رہ کے بھی ہے کتنی مہرباں جب دل نے اُس کو یاد کیا یاد آ گئی باصرِؔ کسی سے عہدِ وفا کر رہے تھے آج ناگاہ پھر کسی کی وفا یاد آ گئی