باصر سلطان کاظمی

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)

29 December 2025

19سپیکرز
149لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

موجب رنگ چمن خون شہیداں نکلا

موجب رنگ چمن خون شہیداں نکلا موت کی جیب سے بھی زیست کا ساماں نکلا ٹھوکریں کھائی ہیں اتنی کہ اب اپنے دل سے شوق آوارگیٔ دشت و بیاباں نکلا ہم بہت خوش تھے کہ جاگ اٹھی ہے اپنی قسمت آنے والا کسی ہمسائے کا مہماں نکلا ہے عجب بات کہ جس رستے پہ ہم چل نکلے گھوم پھر کر وہ سر کوچۂ جاناں نکلا بے حسی نے جو کبھی فرصت غم دی ہم کو ایک سیلاب نہفتہ تہ مژگاں نکلا چارہ گر خطرۂ جاں کہتے تھے جس کو باصرؔ وہی غم باعث آرام رگ جاں نکلا

— باصر سلطان کاظمی

کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خراب

کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خراب ہوتے نہ یوں ہمارے جواں در بدر خراب اعمال کو پرکھتی ہے دنیا مآل سے اچھا نہ ہو ثمر تو ہے گویا شجر خراب اک بار جو اتر گیا پٹری سے دوستو دیکھا یہی کہ پھر وہ ہوا عمر بھر خراب منزل تو اک طرف رہی اتنا ضرور ہے اک دوسرے کا ہم نے کیا ہے سفر خراب ہوتی نہیں وہ پوری طرح پھر کبھی بھی ٹھیک ہو جائے ایک بار کوئی چیز گر خراب اے دل مجھے پتا ہے کہ لایا ہے تو کہاں چل خود بھی اب خراب ہو مجھ کو بھی کر خراب اس کاروبار عشق میں ایسی ہے کیا کشش پہلے پدر خراب ہوا پھر پسر خراب اک دن بھی آشیاں میں نہ گزرا سکون سے کرتے رہے ہیں مجھ کو مرے بال و پر خراب رہ رہ کے یاد آتی ہے استاد کی یہ بات کرتی ہے آرزوئے کمال ہنر خراب اس تیرہ خاکداں کے لیے کیا بلا سبب صدیوں سے ہو رہے ہیں یہ شمس و قمر خراب لگتا ہے ان کو زنگ کسی اور رنگ کا کس نے کہا کہ ہوتے نہیں سیم و زر خراب اک قدرداں ملا تو یہ سوچا کہ آج تک ہوتے رہے کہاں مرے لعل و گہر خراب خاموش اور اداس ہو باصرؔ جو صبح سے آئی ہے آج پھر کوئی گھر سے خبر خراب

— باصر سلطان کاظمی